فیصل آباد تجاوزات کیس،چیف جسٹس کا اظہار برہمی

اسلام آباد: فیصل آباد میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد کا کمشنر فیصل آباد پر اظہار برہمی بولے پتہ نہیں ملک کو کس جگہ پہنچا دیا گیا ہے جس کی جہاں مرضی ہوتی ہے تعمیرات کر رہا ہے ہمارے ٹاؤن پلانرز ملک چھوڑ کر ٹورنٹو اور یورپ جا چکے ہیں۔ عدالت نے فیصل آباد میں تجاوزات سے واگزار کرائے گئے سرکاری پارکس میں شجرکاری سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کا حکم دیدیا۔

فیصل آباد تجاوزات اور ماسٹر پلان کے حوالے سے کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی۔ کمشنر فیصل آباد پر اظہار برہمی کرتے ہوئے چیف جسٹس بولے تجاوزات کے حوالے سے آپ نے کیا کام کیا ہے۔ کمشنر صاحب آپ توماسٹر پلان تک نہیں جمع کرا سکے آپ یہاں کیوں آئے جب آپ کو کچھ معلوم ہی نہیں۔

کمشنر فیصل آباد کی جانب سے مہلت طلب کرنے کی استدعا پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ساری زندگی آپ وقت ہی لیتے رہے ہیں آپ نقشہ تک تو بنا نہیں سکے آپ سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل فیصل آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو اپنے کام کا پتہ ہے،آپ کے ذہن میں کچھ ہے کہ کیا کرنا ہے حالت یہ ہے کہ اب ہم گٹر بھی نہیں بنا سکتے۔ سارے ٹاؤن پلانرز کینیڈا اور یورپ جاچکے ہیں ۔

سپریم کورٹ نے کمشنر فیصل آباد سے پارکس اور کھیلوں کے میدان کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے بازیاب کرائے گئے سرکاری پارکس میں شجرکاری سمیت سہولیات فراہم کرنے کا بھی حکم دے دیا۔ عدالت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو نیشنل ہائی ویز پر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی ۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More