برطرف ہونے والے سرکاری ملازمین بحال

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کے تحت16 ہزار سرکاری ملازمین کو بحال کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے اور حکومتی تجاویز مان لی ہیں۔

سپریم کورٹ نے 16 ہزار سرکاری ملازمین کی برطرفی کے خلاف نظر ثانی کی اپیلیں خارج کر دی ہیں اور فیصلہ سنا تے ہوئے گریڈ ایک سے 7 تک کے ملازمین کو بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے جبکہ گریڈ 8 سے اوپر کے ملازمین کو بحالی کیلئے محکمانہ امتحان پاس کرنا ہو گا، مس کنڈکٹ اور کرپشن پر نکالے گئے ملازمین کو بحال نہیں کیا جائے گا ۔

جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے میں ملازمین کی نظر ثانی کی اپیلیں خارج کرنے سے اختلاف کیا ہے۔ پانچ رکنی بینچ نے چار ایک کے تناسب سے کیس کا فیصلہ سنایا ۔

عدالتِ عظمیٰ نے 1996ء سے 1999ء تک برطرف ہونے والے سرکاری ملازمین کو بحال کردیا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا تھا۔ آج سپریم کورٹ کے جج عمر عطاء بندیال نے فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

نظر ِثانی اپیلیں مسترد کر کے سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 184/3 اور 187 کے تحت ملازمین کو بحال کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ان ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دیا ہے جن کے لیے ٹیسٹ انٹرویو درکار نہیں تھا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے حکم میں کہا کہ گریڈ 8 تا 16 کے ملازمین کی بھرتی کا کوئی ٹیسٹ انٹرویو ضروری تھا تو وہ اب دیں گے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے حکم میں کہا کہ مس کنڈکٹ اور کرپشن پر نکالے گئے ملازمین بحال نہیں ہوں گے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملازمین کو ان ہی تاریخوں سے بحال کیا جا رہا جب انہیں نکالا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے مطابق تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More