ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف کیس کی سماعت کل تک ملتوی

اسلام آباد: ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی۔سپریم کورٹ میں ملک کی آئینی سیاسی صورتِ حال پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے 31 مارچ کے قومی اسمبلی کے اجلاس کے منٹس منگوا لیے۔انہوں نے ہدایت کی کہ اسپیکر کے وکیل نعیم بخاری اجلاس کے منٹس پیش کریں۔

دورانِ سماعت پیپلز پارٹی کے رضا ربانی نے کہا کہ یہ سویلین کُو ہے، مبینہ کیبل کے ذریعے ایک بیانیہ بنایا گیا جو بدنیتی پر مبنی ہے، 25 مارچ کا سیشن تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے لیے مختص ہونے کے باوجود ملتوی کیا گیا، 28 مارچ کو تحریکِ عدم اعتماد کی منظوری ہوئی مگر کارروائی ملتوی کر دی گئی۔انہوں نے کہا کہ کیا وزیرِ اعظم جن کو اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں وہ اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں؟ ووٹنگ کے لیے مختص دن پر اسپیکر کی رولنگ صریحاً بد دیانتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت ایوان کے اندر کی کارروائی نہیں، اسپیکر کے اختیارات سے تجاوز کو دیکھے، عدالت دیکھے کہ کیا اسپیکر آرٹیکل 5 کا اطلاق کر سکتا ہے؟ وزیرِ اعظم اسمبلیاں تحلیل نہیں کر سکتے، جوڈیشل کمیشن بنا کر اسمبلی کی کارروائی پر تحقیقات کرائی جائے، عدالت 3 اپریل کی کارروائی پر حکمِ امتناع جاری کرے۔سینیٹر رضا ربانی نے جوڈیشل کمیشن بنانے اور 3 اپریل کی اسمبلی کارروائی پر اسٹے دینے کی استدعا کرتے ہوئے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔

ن لیگ کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی کہ عدالت اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دے کر اسمبلیاں بحال کرے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 95 پارلیمانی جمہوریت کا دل ہے، اس سے انحراف پارلیمانی جمہوریت سے انحراف ہے، ایوان کی اکثریت کے اعتماد کے بغیر وزیرِ اعظم کا جاری رہنا خلافِ جمہوریت ہے، اسپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آنے کے بعد اجلاس ملتوی نہیں کیا جا سکتا تھا، تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کا طریقہ کار آرٹیکل 95 میں دیا گیا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More