قائمہ برائے کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پر غور

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ برائے کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پر غور کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس کوئی یکطرفہ اختیارات نہیں ہوں گے جبکہ احسن ا قبال کا کہنا ہے کہ گورنر اور ڈپٹی گورنرز اسٹیٹ بینک کیلئے صرف پاکستانی شہریت کی شرط ہونا چاہیے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا فیض اللہ کاموکہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ شوکت ترین اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پر غور کیا گیا ۔ شوکت ترین نے کہا کہ مرکزی بینک کو دنیا بھر میں خود مختاری حاصل ہوتی ہے ۔ماضی میں حکومتوں نے اسٹیٹ بینک کو غلط استعمال کیا ۔ کمیٹی جیسے مرضی غور کرنا چاہیے ہم اجلاس میں موجود ہیں ۔

شوکت ترین نے کہا کہ پاکستان میں اسٹیٹ بینک کو پیسہ چھاپنے کی مشین بنا لیا گیا ۔ہماری حکومت آنے سے پہلے 7 کھرب روپے اسٹیٹ بینک سے لیے جا چکے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو خود چن کرے تعینات کرے گی ۔اسٹیٹ بینک کے کام کو پارلیمنٹ دیکھے گی۔ہم نے پارلیمنٹ کو مضبوط کیا ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس کوئی یکطرفہ اختیارات نہیں ہوں گے ۔اسٹیٹ بینک کو بورڈ کنٹرول کرے گا جس کو حکومت مقرر کرے گی۔جو سابقہ بل پر اعتراضات تھے وہ سب دور کر دیئے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک مشترکہ طور پر اہم فیصلے کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری اچھی بات ہے ۔ اگر مستقبل میں کبھی ضرورت پڑ گئی تو کیا کریں گے ۔ترامیم کوئی آئینی ترامیم نہیں ہے ، ضرورت پڑی تو اسمبلی دوبارہ ترمیم کر سکتی ہے ۔اگر گورنر باغی ہو جاتا ہے تو بورڈ تو حکومت کے پاس ہیں ۔قیمتوں میں استحکام کیلئے مرکزی بینک کردار ادا کرتا ہے مگر مہنگائی میں کئی اور معاملات بھی ہوتے ہیں۔ماضی میں ساری حکومتوں نے نوٹ چھاپے جس مہنگائی اور غربت بڑھی ۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ سارے ریگولیٹری ادارے حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں ۔ حکومت صرف بورڈ ممبران لگا کر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی ہے ۔ حکومت کا اختیار ہونا چاہیے ۔جس پر وزیر خزانہ نے انہیں مخاطب کرکے کہا کہ آپ نے بہت باتیں کر لیں ۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ میں نے کوئی غیر ضروری بات نہیں کی ۔ آپ بتائیں وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کتنی دفعہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے ۔وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کو قائمہ کمیٹی میں پیش ہو کر جواب دہی کو بھی بل کا حصہ بنایا جائے ۔

لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ قانون میں کہا گیا ہے کہ مانیٹری ونگ میں کام کرنے والے افراد کو مارکیٹ کے مطابق تنخواہ دی جائے ۔ اس طرح کا اختیار دیگر محکموں کے افسران کو دے دیں ۔مرکزی بینک کے اختیارات کے استعمال پر احتساب کا کوئی طریقہ کار نہیں رکھا گیا ۔مانیٹری اینڈ فسکل پالیسی کوارڈینیشن بورڈ کو بحال کیا جائے ۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ جس طرح وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر کل ضرورت پڑی تو قانون میں ترمیم کرلیں گے تو اب ہی یہ ترامیم نہ کی جائیں ۔اگر حکومت مرکزی بینک کی بجائے کمرشل بینکوں سے قرض لے گی تو حکومت کی مشکلات بڑھ جائیں گی ۔وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کی مشاورت کی جگہ مانیٹری اور فسکل پالیسی کوارڈینیشن بورڈ کو برقرار رکھا جائے

احسن اقبال نے کہا کہ گورنر اور ڈپٹی گورنرز اسٹیٹ بینک کیلئے صرف پاکستانی شہریت کی شرط ہونا چاہیے ۔ دہری شہریت والے افراد کو ان عہدوں پر لگانے کی ممانعت ہونا چاہیے۔گورنر اسٹیٹ بینک کی معیاد عہدہ تین سال کیلئے ہونا چاہیے۔اگر پانچ سال کی مدت ملازمت رکھنی ہے تو پھر کسی توسیع کی اجازت نہیں ہونا چاہیے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More