وفاقی حکومت سندھ کا مائی باپ نہیں ہے،سعید غنی

کراچی: وزیراطلاعات سندھ سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ عوام اور اسمبلی کو جواب دہ ہیں، وفاقی حکومت کو نہیں،ہمارے بائیس میں سے بارہ افسران دیگر صوبوں کو دیئے جارہے ہیں۔ وفاقی حکومت سندھ کی گورننس خراب کرنا چاہتی ہے وہ سندھ کا مائی باپ نہیں ہے۔

وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ جوائنٹ سیشن کے دوران درجنوں بل غلط گنتی اور پاکستانیوں کو دھوکہ دے کر منظور کرائے گئے فہمیدہ سیال اور ناظم جوکھیو کی ایف آئی آر دونوں کے لواحقین کی مرضی کے مطابق کٹوائی گئی ہیں۔ بل کی منظوری کے لئے درکار 221 یا 222 ارکان کی آئینی منظوری بھی نہیں لی گئی۔پی ٹی آئیم ایم کیوایم، جی ڈی اے اور اس کے اتحادیوں نے کلبھوشن کو این آر او دینے کے بل پر ووٹ دئیے۔

سندھ کا مردم شماری کا مقدمہ بھی پی ٹی آئی اور ان کے اتحادی جماعتوں نے بلڈوز کرکے سندھ کے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے میں اپنا کردار ادا کیا اوراس متنازع مردم شماری پر جی ڈی اے اور ایم کیو ایم نے بھی سپورٹ کیا۔سندھ میں 67 فیڈریشن کے افسران ہیں جس میں ابھی 48 کی کمی ہے اگر اپوزیشن کے ارکان اسمبلی کے کہنے پر بغیر صوبے کے وزیر اعلیٰ سے مشاورت سے امن و امان کی بحالی کے ذمہ دار ڈی آئی جی سطح کے پولیس کے افسران کا تبادلہ کیا جارہا ہے تو اس کا واضح مقصد ہے کہ وفاق سندھ میں گورنس کو خراب کرنا چاہتی ہے۔

فہمیدہ سیال اور ناظم جوکھیو کی ایف آئی آر دونوں کے لواحقین کی مرضی کے مطابق کٹوائی گئی ہیں،سندھ حکومت نے پہلے دن سے ان کا ساتھ دیا ہے۔ ان کو سیکورٹی فراہم کی اگر پیپلز پارٹی میں کسی نے غلط کام کیا ہے توہم اس کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔ ملیر ایکسپریس وے پر مقامی لوگوں کے اعتراضات آئے ہیں، ان کے خدشات کو دور کرکے پروجیکٹ مکمل کرنا چاہتے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More