لاہور ہائیکورٹ نے شیخ رشید کو ہراساں کرنے سے روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے اینٹی کرپشن کو سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ یہ رقبہ ابھی فروخت کے معاہدے میں ہے۔ ابھی تو پوری رقم نہیں ملی تو یہ فروخت شدہ رقبہ کیسے ہوا؟ عدالت نے تفتیشی افسر کو ستائیس جولائی کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔

سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے اینٹی کرپشن لاہور میں طلبی نوٹس کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔ درخواست میں چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری ہوم، ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ شیخ رشید اپنے وکلا کے ہمراہ لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔

شیخ رشید نے درخواست میں موقف اپنایا کہ ضلع اٹک میں ایک سو انچاس کنال کے رقبے کا 67 کروڑ میں رائل ریذیڈینشیا سے معاہدہ کیا تھا جبکہ رائل ریذیڈینشیا سے دس کروڑ روپے ایڈوانس وصول کئے جبکہ ستاون کروڑ کی ادائیگی تئیس فروری دو ہزار بائیس تک مکمل ہوئی۔ شیخ رشید کے مطابق زمین کی فروخت کا معاہدہ کسی بھی طرح غیرقانونی نہیں تھا جبکہ انکم ٹیکس ریٹرن میں ڈکلئیرڈ شدہ زمین کو فروخت کرکے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ درخواستگزار کے مطابق اینٹی کرپشن نے غیرقانونی طور پر انکوائری شروع کی۔

جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دئیے کہ آپ کی درخواست سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رقبہ ابھی فروخت کے معاہدے میں ہے۔ ابھی تو آپ کو پوری رقم نہیں ملی تو یہ فروخت شدہ رقبہ کیسے ہوا؟ شیخ رشید نے بتایا کہ ابھی تک رقبہ مکمل فروخت نہیں ہوا، ابھی اسی فیصد رقم وصول کرنا باقی ہے۔ ساری زمین کا قبضہ میرے پاس ہے، رائل ریذیڈینشیا والا رقم بھی نہیں دے رہا۔ عدالت نے اینٹی کرپشن کو شیخ رشید کو ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے تفتیشی افسر کو ستائیس جولائی کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More