اوکاڑہ میں نوجوان لڑکی کو بگڑے رئیس زادوں نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

اوکاڑہ: پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے ایک نواحی گاؤں 33 فور ایل میں محنت کش باقر کی 17 سالہ بیٹی کو بگڑے رئیس زادوں نے گن پوائنٹ پر اغوا کے بعد 3 روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا۔

اوکاڑہ کے شاہبھور پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک محنت کش باقر کی جوان بیٹی کو مقامی بگڑے رئیس زادوں نے اغوا کر کے زندگی برباد کر دی۔ ملزمان نے لڑکی کو تین دن تک زیادتی کا نشانہ بنایا، اور پھر چھوڑ دیا، تاہم اس کے بعد لڑکی کے والد کو بلیک میل کر کے رقم بھی وصول کرتے رہے، معلوم ہوا کہ ملزمان نے لڑکی کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بھی بنا لی تھیں، جن کے ذریعے غریب گھرانے کو بلیک میل کیا جاتا رہا۔

محنت کش باقر نے پولیس کو بتایا کہ ان سے ایک لاکھ روپے لیے جا چکے ہیں اور مزید 4 لاکھ روپوں کا تقاضا کیا جا رہا ہے، پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا، تاہم واقعے میں ملوث با اثر ملزمان کے دباؤ پر اعلیٰ افسران کی جانب سے تفتیش کار کو تبدیل کر دیا گیا۔

متاثرہ لڑکی کی والدہ نے ایک ویڈیو میں الزام لگایا کہ ان کی بیٹی کو منظور اور رضوان نے گن پوائنٹ پر اس وقت اغوا کیا جب وہ انھیں کھیتوں میں کھانا پہنچانے آ رہی تھی۔ متاثرہ خاندان نے انصاف کے لیے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کیس کا ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بلیک میلنگ کے پیسے نہ دے پانے پر ملزمان نے لڑکی کی برہنہ ویڈیوز اور تصاویر لڑکی کے شوہر کو دکھا دیں، جس پر لڑکی کو شادی کے روز ہی طلاق ہو گئی۔ ملزمان نے لڑکی کے والد سے کہا تھا کہ وہ پانچ لاکھ روپے دے دے تو وہ ویڈیوز اور تصاویر ڈیلیٹ کر دیں گے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More