رانا شمیم کا نام ایسی ایل میں ڈالنے کی درخواست خارج

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے اور توہین عدالت کیس میں فریق بننے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔ ای سی ایل میں نام شامل کرنا یا نکالنا حکومت کا کام ہے عدالت کا نہیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس، تحریری حکمنامہ کے مطابق توہین عدالت کا معاملہ مبینہ توہین کرنے والے اور عدالت کے درمیان ہے۔

رائے محمد نواز کھرل ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست گزار کے وکیل کے ابتدائی دلائل کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی درخواست
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی۔ عدالتی ریمارکس کے مطابق ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں کسی بھی نام کی شمولیت حکومت کا کام ہے عدالت کا نہیں۔ درخواست گزار کی جانب سے توہین عدالت کیس میں پارٹی بننے کی درخواست بھی مسترد کردی۔

دوران سماعت چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ توہین عدالت کے کیس میں کیسے پارٹی بن سکتے ہیں۔ وکیل درخواستگزار نے عدالت کو بتایا کہ وہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے متعلق سب معلومات رکھتے ہیں۔ چیف جسٹس اطہر بولے توہین عدالت کیس تو عدالت کا اپنا معاملہ ہوتا ہے۔ رائے محمد نواز کھرل ایڈوکیٹ کا موقف تھا کہ رانا شمیم ملک سے فرار ہو سکتے ہیں لہذا ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے۔

درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا حکم سناتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ توہین عدالت کا معاملہ خاص طور پر ایک مبینہ توہین کرنے والے اور عدالت کے درمیان ہے،توہین کرنے والے کے علاوہ کوئی اور کیس میں فریق ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ توہین عدالت کیس میں فریق بنانے کی درخواست غلط فہمی کا نتیجہ ہے جسے قابل سماعت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More