رانا شمیم کیس،توہین عدالت کی فرد جرم عائد نہ ہوسکی

اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیان حلفی سے متعلق توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔ عدالت نے ملزمان کو سوچنے کا موقع دیتے ہوئے سماعت بیس جنوری تک ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اس عدالت سے زیادہ آزادی اظہار رائے پر کوئی یقین نہیں رکھتا۔ اس عدالت کے بینچ سے متعلق بیانیہ تھا جس سے یہ رائے دی جا رہی ہے کہ ججز دباؤ میں فیصلے کرتے ہیں۔ اس قسم کی خبروں کی وجہ سے عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس عدالت سے ایسا کونسا فیصلہ جاری ہوا جس پر شک کیا جائے؟ جس سے لگے کہ اس عدالت کے کسی جج پر دباؤ ڈالا کیا جا سکتا ہے؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس کو ختم کریں تاکہ یہ سلسلہ آگے بڑھتا چلا جائے؟ عدالت کے سامنے غلطی کا اعتراف کرنا عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت تک ان کو سوچنے کا وقت دیتے ہیں۔ عدالت نے تمام ملزمان کو سوچنے کا موقع فراہم کرتے ہوئے سماعت بیس جنوری تک ملتوی کر دی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More