تازہ ترین
فاروق حیدرکشمیریوں کا اثاثہ

فاروق حیدرکشمیریوں کا اثاثہ

اسلام آباد:(تحریرآفتاب چوہدری)وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ نواز سے ہے انکی حکومت کے چار سال مکمل ہونے کو ہیں اور کامیابی سے حکومت کرنے کے بعد آئندہ ماہ انکی حکومت پانچویں برس میں داخل ہو جائے گی۔

آئندہ برس آزادکشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونگے جس کے جوڑتوڑ کا سلسلہ شروع ہونے ہی والا ہے ،لیکن دوسری جانب کچھ عناصر اورگروہوں نے انتخابی جوڑ توڑ سے پہلے ہی راجہ محمد فاروق حیدر کی شخصیت پرکیچڑ اچھالنے کے لئے منظم مہم کا آغاز کر دیا ہے جس میں انکی ذات کونشانہ بنایا جا رہا ہے اور راجہ فاروق حیدر کی کردار کشی کرنے کی بھرپورکوشش کی جا رہی ہے اس گھٹیا کام کے لئے ایک جعلی آڈیو ریکارڈنگ کا سہارا لے کر فاروق حیدر کی ذات پر حملہ کیا گیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج سوشل میڈیا اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ اس کے ذریعے جھوٹی یا سچی خبرپھیلانا چند سیکنڈوں کی بات ہے لیکن وہ تمام عناصر یا گروہ جو راجہ فاروق حیدر خان کے خلاف مہم میں مصروف ہیں ان کو پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکناچاہیے کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات کے لئے ایک ایسی شخصیت کےخلاف مصروف ہیں جن کی طرح کی شخصیات صدیوں میں پیدا  ہوا کرتی ہیں۔راجہ فاروق حیدر کا تعلق آزاد کشمیر کے ایک سیاسی خانوادے سے ہے اور وہ اصول پرست ،سچے ،جرات مند اور بہادر انسان ہیں جس پر ان کے سیاسی مخالفین بھی گواہی دیتے ہیں،وہ انتہائی شفاف سیاسی کیرئیر کے حامل ہیں،وزارت عظمی سمیت اپنی حکومت کی پرواہ کئے بغیر وہ مسئلہ کشمیر پراصولی موقف پر ڈٹ کرپہرہ دے رہے ہیں اس کے لئے کئی بار اپنے اور بیگانے بھی ان سے ناخوش ہوجاتے ہیں لیکن انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی،جس طرح ہر قوم میں خود ساختہ لیڈروں کی کوئی کمی نہیں ہوتی اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی ایسے لیڈروں کی بھر مار ہے تاہم ان میں فاروق حیدر جیسی شخصیت کہیں نظر نہیں آتی۔

فاروق حیدر آزاد کشمیر سمیت مقبوضہ کشمیر کے عوام کا نہ صرف حقیقی درد رکھتے ہیں بلکہ صحیح معنوں میں دنیا میں کشمیریوں کے ترجمان ہیں انکی موجودگی میں آئینی یا انتظامی طور پر ریاست کے عوام کے حقوق پر کوئی اپنا یا پرایا ڈاکہ ڈالنے کی جسارت نہیں کر سکتا،فاروق حیدر حکومت میں ہوں یااپوزیشن میں وہ مقبوضہ و آزاد کشمیر کے عوام کے دفاع کے لئے چٹان کی طرح کھڑے رہتے ہیں۔

فاروق حیدر کے سیاسی مخالفین کوان پر تنقید کا بھر پور حق حاصل ہے اور تنقید ہونی بھی چاہیے لیکن اس کے لئے فاروق حیدر کے طرزحکومت ،حکومتی اداروں میں اگر کوئی کرپشن ہوئی ہو یا پھر انتظامی امور سے متعلق فیصلوں پر تنقیدکی جائے جو اپوزیشن کا اصل فریضہ بھی ہے تاکہ اس میں اصلاح احوال بھی ہو سکے اورعوام کے مفادات کا تحفظ بھی ہو اور انتظامی اور حکومتی فیصلوں کی خامیاں آئندہ الیکشن میں بھی عوام کے سامنے لائی جا سکیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی خواہش دل میں رکھ کرکسی کے خلاف گھٹیا،من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگانا مہذب قوموں کا شیوہ نہیں ہوتا،انسان ہونے کی حیثیت سے فاروق حیدر کے پاوں بھی برادری ازم کی زنجیر میں جکڑ جاتے ہیں لیکن اس کے باجود وہ کبھی کسی مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہو تے،ہر فورم پرسیدھی اور حق بات کہنا ان کا شیوہ ہے وہ سیاسی نفع اور نقصان یاکسی کو ناراض یا راضی کرنے کے چکر میں پڑے بغیر سچی اور کھری بات کرتے ہیں۔فاروق حیدر جس مجلس میں موجود ہوں وہاں وہاں اپنے یا پرائے کوکشمیریوں اور بالخصوص مسئلہ کشمیر کے خلاف بات کرنے کی جرات نہیں ہوتی اگر کوئی مسئلہ کشمیر کے خلاف بات کرجائے تو پھر اس کومنہ کی کھانا پڑتی ہے ،فاروق حیدر کی سربراہی میں چلنے والی حکومت میں شاید ہی کوئی کرپشن کرنے کی جرات کر سکے،اگر کہیں کرپشن کی نشاندہی ہو اور فاروق حیدر آنکھیں بند کر لیں تو پھر ان کو آڑے ہاتھوں لیا جا سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاست ایک بے رحم کھیل ہے اور سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا،سیاست کے کھلاڑی یا پھر وہ ظاہری یا پوشیدہ ہاتھ جو فاروق حیدر کی شخصیت ،انکی کھری بات اور اصولی موقف سے خائف ہیں اور ایسے گھٹیا پروپیگنڈا میں مصروف ہیں ان کو یہ سوچنا ہو گا کہ وہ کس کی خدمت کر رہے ہیں اگر یہ لوگ خود کوکشمیری سمجھتے ہیں تو ان کو مقبوضہ و آزاد کشمیر میں نظر دوڑانی چاہیے کہ کہیں فاروق حیدر جیسی شخصیت میسر ہے یا نہیں،محض اپنے سیاسی مفادات کےلئے ایسا گندا کھیل نہیں کھیلنا چاہیے جو ایسی شخصیات کی کردار کشی کاباعث بنے جوصدیوں میں پیدا ہوا کرتی ہیں۔

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آزاد کشمیر میں جس انداز میں حکومتیں بنائی جاتی ہیں اور اہل اقتدار کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انکی زبانوں کی جس طرح تالہ بندی کی جاتی ہے ایسے میں راجہ فاروق حیدر خان جیسی شخصیات ہی ہاتھ پاؤں کی زنجیروں کو توڑنے کی جرات کرتی ہیں اور ریاست اور ریاست کےعوام کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں، وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی جماعت آئندہ انتخابات میں کامیاب ہو یا نہ ہو یا پھر وہ حکومت میں ہوں یا نہ ہوں لیکن اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتاکہ وہ کشمیریوں کا اثاثہ ہیں اور اس اثاثے کو سنبھالنا کشمیری قوم کا فریضہ ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top