عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے وزیراعلیٰ منتخب

کوئٹہ: عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔ عبدالقدوس بزنجو نے انتالیس ووٹ حاصل کیے۔ عبدالقدوس بزنجو کے مقابلے میں کسی نے کاغذات جمع نہیں کروائے تھے۔

عبدالقدوس بزنجو 1973 میں پیدا ہوئے وہ معروف سیاسی شخصیت عبدالمجید بزنجو کے صاحبزادے ہیں انہوں نے ابتدائی تعلیم آباءی علاقے آواران سے حاصل کی اور بلوچستان یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سیاسی کیریئر کا آغاز 2002 کے عام انتخابات میں حصہ لے کر کیا، ق لیگ کے ٹکٹ پر آواران سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی اور اس وقت کے وزیر اعلی جام محمد یوسف کی کابینہ میں لائیو اسٹاک کے وزیر رہے، 2013 کے انتخابات میں آواران سے ایک بار پھر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور صوبائی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ حاصل کیا تاہم اختلاف کے باعث ڈپٹی اسپیکر کے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

وہ 2017 میں سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے محرک تھے تحریک عدم اعتماد کے باعث نواب ثناءاللہ زہری کی حکومت کے خاتمے کے بعد عبدالقدوس بزنجو مختصر مدت کے لئے وزیر اعلی بلوچستان منتخب ہوئے۔ انہوں نے ق لیگ سے مستعفی ہوکر بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا اور بی اے بی کے ٹکٹ پر آواران سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی جو کہ صوبے میں اکثریتی جماعت بن چکی ہے اور بی اے پی کی جانب سے عبدالقدوس بزنجو کو اسپیکر صوبائی اسمبلی منتخب کیا گیا۔

قدوس بزنجو نے سابق وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے بی اے پی اراکین سمیت اپوزیشن اراکین کو جام کمال کے خلاف اکٹھا کیا تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں جام کمال کو وزارت اعلی سے مستعفی ہونا پڑا جس کے بعد بعد پی اے پی اپوزیشن جماعتوں اور اتحادی پارٹیوں نے قدوس بزنجو کی حمایت کا اعلان کیا اور وہ بلامقابلہ بلوچستان کے سترہویں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں ۔

گورنر بلوچستان قدوس بزنجو سے وزارت اعلی کا حلف لیں گے جس کے بعد وہ اپنی زمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More