حکومت پنجاب کی سیالکوٹ واقعے کی مذمت، 50 افراد زیر حراست

لاہور: حکومت پنجاب نے سیالکوٹ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ملوث پچاس افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کردیا۔ ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے کہا کہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر اعلیٰ سطحی انکوائری جاری ہے۔

سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کی جانب سے سری لنکن شہری کو تشدد کر کے قتل کرنے کے واقعے پر لاہور میں حکومتی نمائندوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مکمل انصاف کی یقین دہانی کرائی۔ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا ہے کہ تمام پہلو سے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے ۔ 48 گھنٹے میں رپورٹ منظر عام پر لائیں گے۔سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شناخت کا عمل جاری ہے ۔

ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا مزید کہنا تھاکہ اس معاملے میں نہ صرف انصاف ہوگا بلکہ ہوتا نظر آئے گا۔ محکمہ پولیس کی جانب سے تاخیر اور غفلت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کا کوئی معاشرہ ایسےفعل کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔اس واقعے نے پورے ملک کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More