پنجاب کے منحرف ایم پی ایز سے متعلق پی ٹی آئی کا جواب الجواب

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے پنجاب کے منحرف ایم پی ایز سے متعلق کیس میں تحریک انصاف کا جواب الجواب قبول کر لیا۔ منحرف رکن نور عالم خان وکیل نے دلائل میں کہا کہ پارٹی چیئرمین ‏ہدایات جاری نہیں کرسکتا جبکہ عمران خان نے پی ٹی آئی ارکان پنجاب ‏اسمبلی کو چار اپریل ‏کو خط کے ذریعے پرویزالٰہی کو ووٹ دینے کی ہدایت دی۔

‏چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن پی ٹی آئی کے 25 ‏منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کے خلاف ریفرنسز پر سماعت کی۔ تحریک انصاف نے ‏دستخط شدہ جواب الجواب جمع کرا دیا۔ منحرف ارکان کے وکیل شہزاد شوکت نے کہا کہ ‏دستخط شدہ اور بغیر دستخط شدہ جواب الجواب مختلف ہے۔ نیا جواب الجواب مسترد کیا جائے۔

وکیل پی ٹی آئی فیصل چوہدری نے کہا کہ یہ ٹیکنیکل خامی کے پیچھے چھپنے کی کوشش ‏کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا ‏جمع کروایا گیا جواب الجواب قبول کرلیا۔منحرف ارکان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے ‏تحت پارلیمانی پارٹی ارکان کو ہدایات جاری کرتی ہے۔ ممبرسندھ ناصردرانی نے ‏استفسار کیا ‏کہ کیا پارلیمانی پارٹی کا لیڈر بھی پالیسی جاری کرسکتا ہے۔

وکیل نے کہا کہ پارٹی چیئرمین ‏ہدایات جاری نہیں کرسکتا۔عمران خان نے پی ٹی آئی ارکان پنجاب ‏اسمبلی کو چار اپریل ‏کو خط کے ذریعے پرویزالٰہی کو ووٹ دینے کی ہدایت دی۔آج جو جواب الجواب جمع کروایا ‏گیا ‏اس میں بیان حلفی عمران خان کا نہیں سبطین خان کا ہے۔عمران خان بیان حلفی دینے ‏سے ہچکچا کیوں رہے ہیں۔انہیں پتا ہے کہ جھوٹے بیان حلفی پر کارروائی ہوسکتی ‏ہے، الیکشن کمیشن نے سماعت کل دن 12 بجے تک ملتوی کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More