تحریک انصاف کا احتجاج،سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ بارہ صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس جسٹس عمر عطاء بندیال نے تحریر کیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے لانگ مارچ اور سڑکوں کی بندش سے متعلق درخواست دائر کی، جس پر عدالت عظمیٰ کے 14 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا، فیصلہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تحریر کیا، تحریری حکمنامے میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ پی ٹی آئی چیئر مین کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کا کافی مواد موجود ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کی قیادت اور مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا، لانگ مارچ کے ختم ہونے کے بعد تمام شاہراوں کو کھول دیا گیا، آزادانہ نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں، درخواست دائر کرنے کا مقصد پورا ہو چکا ، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کو نمٹایا جاتا ہے۔اسی دوران عدالت نے آئی جی پولیس، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈی جی آئی بی اور ڈی جی آئی ایس آئی، سیکرٹری وزارت داخلہ سے بھی ایک ہفتے میں سوالوں کے جواب طلب کر لیے۔

سوالات میں پوچھا گیا کہ عمران خان نے پارٹی ورکرز کو کس وقت ڈی چوک جانے کی ہدایت کی؟ کس وقت پی ٹی آئی کارکنان ڈی چوک میں لگی رکاوٹوں سے آگے نکلے؟ کیا ڈی چوک ریڈ زون میں داخل ہونے والے ہجوم کی نگرانی کوئی کررہا تھا؟ کیا حکومت کی جانب سے دی گئی یقین دہائی کی خلاف ورزی کی گئی؟ کتنے مظاہرین ریڈزون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے؟

سوالات میں پوچھا گیا کہ ریڈ زون کی سکیورٹی کے انتظامات کیا تھے؟ ایگزیکٹو حکام کی جانب سے سکیورٹی انتظامات میں کیا نرمی کی گئی؟ کیا سکیورٹی بیریئر کو توڑا گیا؟ کیا مظاہرین یا پارٹی ورکر جی نائن اور ایچ نائن گراونڈ میں گئے؟ عدالت نے زخمی، گرفتار اور ہسپتال میں داخل ہونے والے مظاہرین کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔ ثبوتوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائیگا کہ عدالتی حکم کی عدم عدولی ہوئی یا نہیں، کیا حکومت کو دی گئی یقین دہائی کی خلاف ورزی کی گئی؟۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More