پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کہتے ہیں ووٹرز کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔ ملک کیلئے جمہوریت سب سے اہم اورضروری ہے جسے مضبوط بنانا ہے۔ یقینی بنائیں گے کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو سب کیساتھ انصاف کریں گے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندرسلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار اکبر ایس بابر اور مالی ماہر ارسلان وردگ اورہی ٹی آئی کی جانب سے شاہ خاور الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار اکبر ایس بابر کے مالی ماہرارسلان وردگ نے بتایا کہ تحریک انصاف نے کئی بیرون ملک سے ملنے والے فنڈز کے ذرائع نہیں بتائے۔ دعوے کے مطابق مقامی سطح پر کھولے گئے اکائونٹس کا ریکارڈ منگوایا جائے۔

ارسلان وردگ نے بتایاکہ پی ٹی آئی نے اکتالیس بینک اکائونٹس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ امریکہ میں پی ٹی آئی ایل ایل سی تحریک انصاف کی ایجنٹ نہیں ذیلی کمپنی ہے۔ برطانیہ کی کمپنیوں کے مالک پی ٹی آئی کے عہدیدارہیں جبکہ دیگر ممالک کی کمپنیوں کے مالکان کا پبلک ریکارڈ معلوم نہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ووٹرز کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔۔ ملک کیلئے جمہوریت کو مضبوط بنانا سب سے اہم ہے۔ یقینی بنائیں گے کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔۔۔ سب کیساتھ انصاف کریں گے۔ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔۔ بہت جلد دیگر جماعتوں کے کیس بھی فائنل ہونگے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں درخواست گزار اکبر ایس بابر نے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں تھا۔ امید ہے سرخرو ہوں گے۔

نومبر دوہزار چودہ میں دائر ہونیوالا پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں سات سال سات ماہ تک زیر سماعت رہا۔ اسکروٹنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیش کی تھی۔۔ پی ٹی آئی کی طرف انور منصور بطور وکیل پیش ہوئے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More