پی ٹی آئی وکیل نے فنڈنگ میں گڑبڑ تسلیم کرلی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی وکیل انور منصور نے تسلیم کر لیا کہ 2013 سے پہلے پی ٹی آئی کی فنڈنگ میں گڑ بڑ ہو رہی تھی ۔ ممبر کمیشن ناصر درانی نے کہا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال بھی 2009 سے 2013 تک کی ہے۔

چیف الیکشن کمیشن سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں کمیشن نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کی۔ پی ٹی آئی وکیل انور منصورنے دلائل میں کہا کہ سال 2013 سے پہلےپی ٹی آئی کی فنڈنگ میں گڑ بڑ ہو رہی تھی اور عمران خان نے خود مانا کہ ہمارے پاس اتنے سخت کنٹرول نہیں تھے انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کی۔ ممبر ناصر درانی نے کہا کہ یہ اکاونٹس کی جانچ پڑتال بھی 2009 سے 2013 تک کی ہے۔انور منصور نے کہا کہ یہ سب شروع ہونے سے قبل پی ٹی آئی نے ادراک کیا اور اصلاح کے لئے پالیسی بنائی ، وارننگ لیٹر بھیجے اور آڈٹ کرایا۔ پارٹی نے احساس کیا کہ کوئی غلطی ہے تو اسے دور کیا جائے۔

ممبر کمیشن نے استفسار کیا کہ احسن اینڈ احسن کمپنی پر آپ کا اعتماد کیوں رہا ۔انور منصور نے جواب دیا احسن اینڈ احسن ہمارے ریگولیر اڈیٹر نہیں تھے ، اس کمپنی کو پی ٹی آئی نے ٹاسک دیا کہ ایک سیاسی جماعت اپنے اکاونٹس کو درست کرنا چاہتی ہے۔ انور منصور نے کہا کہ پی ٹی آئی نے فنڈنگ کی تمام تفصیلات سکروٹنی کمیٹی میں جمع کرائیں پاکستان کی کسی سیاسی جماعت نے فنڈنگ کی تفصیلات اتنے جامع انداز میں مرتب نہیں کیں۔تمام فنڈز بینکوں کے ذریعے پاکستان بھجوائے گئے ۔ ہم نے اپنے شواہد ریکارڈ کے ساتھ الیکشن کمیشن پیش کردیے ہمیں غلط ثابت کرنا ہے تو ریکارڈ الیکشن کمیشن پیش کرنا ہوگا۔ انور منصور نے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی نے رپورٹ میں مبہم بیانات دیے رپورٹ میں کہا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ غیر ملکیوں نے پی ٹی آئی جو فنڈنگ دی قانون میں امکانات کی کوئی حیثیت نہیں۔ غیر یقینی رپورٹ کو بنیاد بنا کر کیسے فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ اسکروٹنی کمیٹی نے جن فنڈز پر سوالات اٹھائے وہ پارٹی کو موصول ہی نہیں ہوئے۔ کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More