پی ٹی آئی کیخلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت کل تک ملتوی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کیخلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت ، پی ٹی آئی کی طرف سے معاشی ماہرین نے الیکشن کمیشن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسکروٹنی کمیٹی ریسرچ میں وقت لگاتی تو بہتر تھا۔ درخواست گزار اسکروٹنی کمیٹی کو مصدقہ دستاویزات فراہم نہیں کر سکا۔چیف الیکشن کمشنر بولے ہم سمجھ رہے تھے کہ آپ اکاؤنٹس کی بات کریں گے لیکن آپ تو اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ پر بات کر رہے ہیں۔

چیف الیشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کی ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ پی ٹی آئی کی طرف سے معاشی ماہرین نے الیکشن کمیشن کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کس طرح کام کرے گی یہ طے نہیں ہوا۔ اسکروٹنی کمیٹی ریسرچ میں وقت لگاتی تو بہتر تھا۔ممبر کمیشن ناصر درانی نے پی ٹی آئی فنانشل ایکسپرٹ کو کہا کہ دلائل تو ہو چکے ہیں آپ اکاؤنٹس کے حوالے بات کریں۔ فائنانشل ایکسپرٹ نے کہا کہ درخواست گزاراسکروٹنی کمیٹی کو مصدقہ دستاویزات فراہم نہیں کر سکا۔ممبر شب فیس اور امدادی رقم دو الگ چیزیں ہیں۔ ممبر سندھ نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کو عطیات کیسے ملے؟ قانونی یا کسی اور طریقے سے؟ فائنانشل ایکسپرٹ بولے؛ تمام مالی عطیات بینک اکاؤنٹس میں آئے۔ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں اسٹینڈرڈ آڈٹ رپورٹ پیش کی۔ اسکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کی پوری رپورٹ سے صرف نظر کیا۔ اسکروٹنی کمیٹی کو رپورٹ کی خامیاں بتانا چاہیئے تھیں۔

وکیل انور منصور کی جانب سے آئندہ سماعت پر اعداد وشمار پر بات کرنے کی یقین دہانی کے بعد الیکشن کمیشن نے مزید سماعت کل بارہ بجے تک ملتوی کر دی۔الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے فنانشل ایکسپرٹ آج منی ٹریل دینگے لیکن وہ تفصیلات نہیں دے سکے جب پی ٹی آئی کی تفصیلات ختم ہونگی تو ہم اپنا جواب دینگے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More