سال 2021 پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے بہتر سال نہیں رہا

کراچی: سال 2021 پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے حوالے سے کوئی زیادہ بہتر سال نہیں رہا۔ سال بھر میں مارکیٹ میں زبردست اتارچڑھاو دیکھا گیا۔ ملک کے سیاسی حالات نے بھی حصص بازار کودباؤ میں رکھا۔

2021 کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج ایمرجنگ مارکیٹ سےنکل کر فرنٹیئرمارکیٹ میں شامل ہوئی۔ جاری کھاتوں کا بڑھتا خسارہ، روپے کی گرتی قدراور تیزی سے بدلتے حالات کے باعث سرمایہ کاروں نے 37 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے حصص فروخت کئے۔

سال کے دوران مجموعی طور پر اسٹاک مارکیٹ1ہزارپوائنٹس بھی نہ بڑھ سکی۔ سال بھرکے دوران مارکیٹ 43,713 سے 44,596 پر اختتام پذیر ہوئی-سال کی بلندترین سطح48,191 تک پہنچی جبکہ کم ترین سطح 42,779 مارچ میں رہی۔

معاشی ماہرین کہتے ہیں شرح سود 9.25 فیصد ہوجانا بھی مارکیٹ کی مندی کی بڑی وجہ ہے، حکومت کو معیشت کے لیے ٹھوس اور مربوط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More