ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس، پی ٹی آئی وکیل کے دلائل

اسلام آباد: الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کی ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ ممبر نثار درانی نے سوال اٹھایا کہ کیا دوہری شہریت کے حامل شہری پاکستان کی سیاسی جماعت کو ڈونیشن دے سکتے ہیں۔ کیا فارن لوکل کمپنی بھی فنڈ دے سکتی ہے۔ کیا سیاسی جماعت کو ڈونیشن دینے کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد مقرر ہے۔ غیر ملکی ڈونیشن کتنا ہونا چاہیے فنڈ کتنا ہو سکتا ہے

چیف الیکشن کمیشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پاکستان تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت کی۔ پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ سے کوئی بھی ممنوعہ فنڈنگ نہیں آئی۔ صرف ملٹی نیشنل کمپنیاں ممنوعہ فنڈنگ میں آتی ہیں۔ا سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی اور اکبر ایس بابر دونوں کے دستاویزات مسترد کیے ۔اسکروٹنی کمیٹی نے میرے دستاویزات مسترد کرنے کی وجوہات نہیں بتائیں۔ کمیٹی ہمارے دستاویزات مسترد نہیں کر سکتی۔

انور منصور نے کہا کہ دبئی میں ووٹن کرکٹ کلب کمپنی ، برسٹل کمپنی ملٹی نیشنل نہیں ہیں ۔ یہ دبئی میں مقامی کمپنیاں ہیں۔ ممبر الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا فارن لوکل کمپنیاں بھی فنڈ دے سکتی ہیں۔ انور منصور نے جواب دیا کہ ووٹن کمپنی کے مالک عارف نقوی نے بیان دیا کہ کمپنی فرد واحد کی ملکیت ہے اور ملٹی نیشنل نہیں ہے۔ صرف پاکستانی افراد سے فنڈز اکھٹے کیے گئے۔

انور منصور نے کہا کہ یوکے سے 95 ہزار پاؤنڈز آئے۔ جن لوگوں نے فنڈز دئیے ان سب کے نام موجود ہیں۔ مسئلہ فنڈز کا نہیں ممنوعہ فنڈنگ کا ہے کوئی ممنوعہ فنڈنگ نہیں ہوئی۔ یورپ سے فنڈنگ کی تفصیلات بتاتے ہوئے انور منصور نے کہا کہ کریم سعادت نے ایک ہزار سے زائد یورو بھیجے وسیم محمد نے بھی ایک ہزار سے زائد جبکہ نعمان علی نے 495 یورو بھیجے ۔ یورپ سے 33 ہزار سے زائد یوروز آئے۔ سویڈن اور سوئٹزرلینڈ سے 4026 یورو آئے۔ آسٹریلیا سے 15 لاکھ 96 ہزار آسٹریلین ڈالر میں پی ٹی آئی کو فنڈنگ ہوئی۔

ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ آسٹریلیا سے موصول فنڈنگ کے ذرائع نہیں بتائے گئے۔ جس پر انور منصور نے کہا کہ آسٹریلیا کے قوانین ڈونرز کو نام ظاہر نہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ جن ڈونرز نے اجازت دی ان کی تفصیلات ریکارڈ میں لگائی گئی ہیں۔

ممبر نثار درانی نے استفسار کیا کہ کیا سیاسی جماعت کو ڈونیشن دینے کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد مقرر ہے ۔کیا دہری شہریت کے حامل شہری پاکستان کی سیاسی جماعت کو ڈونیشن دے سکتے ہیں۔ انور منصور نے جواب دیا کہ پاکستانی شہری پر ڈونیشن دینے کی کوئی حد نہیں ہے۔ سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق دوہری شہریت کے حامل پاکستانی سیاسی جماعت کو ڈونیشن دے سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔ الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ قانون کہتا ہے کہ ڈونیشنز صرف انفرادی طور پر لی جاسکتی ہے۔ انور منصور نے تسلیم کیا غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ ہوئی۔اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان احتجاج کے ذریعے دباؤ ڈال کر مرضی کا فیصلہ چاہتے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More