وزیراعظم کا قوم سے خطاب، استعفیٰ نہ دینے کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ استعفیٰ نہیں دونگا۔ تحریک عدم اعتماد پر جو بھی فیصلہ ہو طاقتور ہوکر واپس آؤں گا ۔ دھمکی آمیز خط امریکا نے لکھا جس میں کہا گیا کہ اگر عمران خان وزیراعظم رہے تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کے مستقبل کے لیے میرا یہ خطاب براہ راست ہے جس کا مقصد قوم کو اعتماد میں لینا ہے۔ زیادہ تر لوگ کو سیاست سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا مگر اللہ نے مجھے سب کچھ دیا۔ میری زندگی میں ضرورت سے زائد پیسہ تھا۔ میرے پاس سب کچھ تھا لیکن میں پھر بھی سیاست میں آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے والدین غلامی کے دور میں پیدا ہوئے۔ وہ تحریک پاکستان میں شریک تھے اور مجھے احساس دلاتے تھے کہ تم آزاد ملک میں پیدا ہوئے ہو۔ خودداری آزاد قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ سیاست میں اس لیے آیا کہ ہمارا ملک کبھی بھی وہ ملک نہیں بن سکتا جو علامہ اقبال اور محمد علی جناح کا خواب تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقصد اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا اور اس کا تصور ریاست مدینہ ہے۔ جب میں نے 25 برس قبل سیاست شروع کی۔میں نے منشور میں انصاف کو شامل کیا تاکہ طاقتور اور کمزور کے لیے قانون یکساں ہو۔میرے پاس سب کچھ موجود تھا ایسا انسان اپنی زندگی کے بائیس سال خرچ کرکے سیاست میں کیوں آئے گا؟ وجہ کیا ہے؟ مجھے سے لوگ سوال کرتے تھے کہ سیاست میں کیوں آیا؟ اپنی قوم کی خاطر آیا۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک پر بیرونی طاقتیں اثرانداز ہوتی ہیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اقتدار میں آیا تو ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی ایک آزاد پالیسی ہوگی جو کہ پاکستانیوں کے لیے ہوگی۔وہ پالیسی جو ہمارے مفادات پر مبنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں ہمیں اسی کمرے میں کہا گیا کہ امریکا کی حمایت نہیں کی تو وہ زخمی ریچھ کی طرح ہمیں ہی نہ مار دے۔ افغان جہاد کے بعد دو سال بعد ہی امریکا ہم پر پابندیاں لگادیتا ہے۔ نائن الیون کے بعد واشنگٹن کو ہماری حمایت کی ضرورت پڑجاتی ہے لیکن جو حمایت ہم نے کی اور پاکستانیوں نے اپنی 80 ہزار جانوں کی قربانی دی کسی نیٹو ملک نے اتنی جانیں نہیں دیں۔

عمران خان نے کہا کہ کسی آزاد ملک کے لیے جس طرح کا ہمیں پیغام آیا ہے ایک وزیراعظم کے خلاف دراصل وہ پوری قوم کے خلاف ہے۔انہیں پہلے سے پتا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک آنے والی ہے۔ دراصل اپوزیشن پہلے سے ہی باہر کے لوگوں سے رابطے تھی۔ یہ لوگ صرف عمران خان کے خلاف ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر عمران خان چلا جائے تو پاکستان کو معاف کردیں گے۔ اگر یہ تحریک فیل ہوجاتی ہے تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ آفیشل ڈاکیو منٹ ہے جس میں ایک سفیر نے کہا کہ اگر عمران خان وزیراعظم رہتا ہے تو آپ سے تعلقات خراب ہوں گے اور ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔قوم سے سوال ہے کہ ہم 22 کروڑ افراد کی قوم کی کیا یہ حیثیت ہے کہ بغیر وجہ بتائے وہ ہم پر فیصلے مسلط کردے؟ اور وجہ شاید یہ بتائے کہ روس جانے کا فیصلہ غلط ہے، روس جانے کا فیصلہ دراصل عسکری اور وزارت خارجہ کی مشاورت سے کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان کے رابطے یہاں موجود وفادار غلاموں سے ہیں۔یہ چاہ رہے ہیں وہ آجائیں جن کے اوپر اربوں مالیت کی کرپشن کے الزامات ہیں۔کیا ہم اپنے ملک میں اس طرح کے لوگوں کی قیادت آنے دیں گے؟

وزیراعظم نے کہا کہ انہیں ہمارے تین لوگ پسند آگئے۔ ان میں ایسی کیا خاص باتیں ہیں؟ ان کے اقتدار میں 400 امریکی ڈرون حملے ہوئے لیکن انہوں نے کبھی مزاحمت نہیں کی۔وکی لیکس میں موجود ہے کہ ’فضل الرحمن نے پاکستان میں امریکی سفارت کار سے کہا کہ مجھے بھی خدمت کا موقع دیں۔

انہوں نے کہا کہ میں کسی کی مخالفت نہیں کرتا لیکن میری اولین ترجیح 22 کروڑ عوام ہیں۔ ان کے لیے خارجہ پالیسی بناؤں گا۔ شہباز شریف کے اقتدار میں آنے کا مقصد کچھ اور ہے۔ آپ کے بھائی صاحب تو بات کرہی نہیں سکتے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’مراسلے پر شک کیا گیا میں نے کابینہ کے سامنے مراسلہ رکھا۔اس کے بعد قومی سلامتی کونسل کا اجلاس کیا اور مراسلہ ان کے سامنے رکھا اور پھر صحافیوں کے سامنے پیش کیا۔یہ مراسلہ اکسانے کے لیے نہیں ہے۔ اس ڈاکیومنٹ میں خطرناک الفاظ لکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتوار کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی۔ اس اتوار کو ملک کا فیصلہ ہوگا کہ یہ کس طرف جائے گا۔کیا یہ وہی لوگ ہوں گے جو کرپشن کرتے ہیں اور جن کے اثاثے ملک سے باہر ہیں۔ملک کے حالات ساڑھے تین سال میں کیا ہوگئے؟ لیکن متحدہ اپوزیشن تو 30 برس سے تھی۔ مجھے لوگوں نے کہا کہ میں استعفیٰ دے دوں۔میں آخر گیند تک مقابلہ کرتا ہوں۔ تحریک عدم اعتماد کا جو بھی نتیجہ ہوگا اس کے بعد میں اور بھی تگڑا ہوجاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ کوئی نہیں مان رہا کہ شہباز شریف، آصف علی زرداری، فضل الرحمن نظریاتی لوگ ہیں۔ یہ سب لوگ اپنے ضمیر، ملک کا سودا کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنا سودا کرکے متحدہ اپویشن کی صفوں میں بیٹھے ہیں وہ یاد رکھیں لوگ انہیں کبھی نہیں بھولیں گے۔ آپ بیرون ملک سازش کا حصہ بنے ہیں۔ کوئی بھی آپ کو معاف نہیں کرے گا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More