وزیراعظم نے تحریک انصاف کی تمام تنظیمیں تحلیل کردی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں تحریک انصاف کی تمام تنظیمیں تحلیل کر کے آئینی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی ترجمان کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیر بلدیات محمود الرشید، سینیٹر سیف اللہ نیازی، عامر کیانی، وفاقی وزراء فواد چوہدری، حماد اظہر، شفقت محمود، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان، اسد قیصر، پرویز خٹک، مراد سعید سمیت پارٹی کے سینئر رہنما اور دونوں صوبوں کی اہم قیادت بھی اجلاس میں موجود تھی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ پنجاب و خیبر پختون خواہ کے بلدیاتی انتخابات پر مشاورت کی گئی۔اجلاس میں پنجاب میں پی ٹی آئی کے انتظامی امور پر بھی بریفنگ دی گئی۔ خیبر پختونخوا کے انتخابی نتائج سے متعلق رپورٹ کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اور آئندہ انتخابات کیلئے پارٹی حکمت عملی سے متعلق اہم فیصلے کر لئے گئے۔ وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ کے پی محمود خان کو صوبے میں پارٹی کارکنان کو منظم کرنے کی ہدایت کر دی۔

ذرائع کے مطابق پارٹی اجلاس فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن تمام ڈیٹا اکٹھا کر لے پھر بلدیاتی انتخابی نتائج پر پارٹی موقف دیا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں سابقہ غلطیاں نہ دہرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی امیدواروں کی ٹکٹس کا خود جائزہ لیکر فیصلہ کروں گا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین جماعت ہے۔ آج کل دوبارہ نوازشریف کی نااہلی کو چیلنج کرنے کی باتیں چل رہی ہیں۔نوازشریف نے ملک لوٹا اور اعلیٰ عدالتوں سے نااہل ہوئے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے سیاسی حکمت عملی طے کر لی ہے۔ آئندہ انتخابات کے لیے حکمت عملی مرحلہ وار ہو گی۔ پہلے مرحلے میں 21 ارکان پر مشتمل قائم سیاسی کمیٹی کو بااختیار بنایا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں تنظیمیں تحلیل کی جائیں گی۔

تحریک انصاف کی سپریم کمیٹی بھی نئے سیاسی پلان کے تحت تشکیل دی گئی۔ سپریم کمیٹی 21 ارکان پر مشتمل ہوگی جبکہ صوبوں کو نمائندگی دی گئی۔ سیاسی کمیٹی نئی تنظیم سازی اور پارٹی کو متحرک کرنے پر کام کرے گی۔ وزیر اعظم عمران خان سپریم سیاسی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔

کمیٹی کے جلاس پنجاب سے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار، گورنرچوہدری سرور، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود، عامر محمود کیانی، سیف اللہ نیاری خیبر پختونخوا سے وزیراعلیٰ محمود خان، پرویز خٹک، اسد قیصر، علی امین گنڈا، سندھ سے اسد عمر، عمران اسماعیل، علی زیدی، بلوچستان سے قاسم سوری، گورنر آغا ظہور جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، اعجاز چوہدری اور شیریں مزاری کو بھی کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More