صدرنے نظام میں رکاوٹ ڈالی تو انکا مواخذہ ہوگا، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی سےجتنا اعتماد ہمیں چاہیے اتنا اعتماد ہمیں ان پر ہے۔ہمیں 9 ووٹ چاہییں لیکن ہمارے پاس اس سے زیادہ ووٹ ہیں۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اب تک نیوز ٹی وی کے پروگرام ٹونائٹ ود فریحہ میں گفتگو کرتےہوئےکہاہےکہ جو حکومتی اراکین ہمارے ساتھ ہیں ان کو جہاں ممکن ہوا ایڈجسٹ کریں گے۔ جو لوگ الیکشن سے پہلے پارٹیاں بدل لیتے ہیں سیاسی بدنامی کا باعث ہوتے ہیں۔حکومت میں آئے تونیب کو ختم کردیں گے۔

عدم اعتماد کی ناکامی کے سوال پران کا کہنا تھا کہ ایک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد دوسری مرتبہ پھرتیسری مرتبہ آسکتی ہےاس میں رکاوٹ نہیں ہے۔ ہم نے اتحادیوں کو دعوت دی ہے کہ اس حکومت کا چلنا نہ ان کے مفاد میں ہے نہ ملک کے مفاد میں ہے۔

پنجاب کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے لوگ خودہی بزدار سے مایوس ہیں اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں۔ پنجاب میں بھی عدم اعتماد کے بارے میں سوچا جائے گا پہلا مقصد قومی اسمبلی ہے۔

اسٹبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے کے سوال پرانہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ضروری ہے کہ اسٹبلشمنٹ نیوٹرل ہو۔ وقت سے پہلے الیکشن وقت کی ضرورت ہے کیونکہ ملک نہیں چل رہا۔صدر کے مواخذے پر ان کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اگر صدرنے نظام میں رکاوٹیں کھڑی کیں تو ان کے خلاف بھی مواخذے کی تحریک آسکتی ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More