پنجاب کابجٹ پیش: تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

لاہور: پنجاب اسمبلی میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کا بجٹ پیش کردیا گیا، اویس لغاری نے اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

صوبائی وزیرخزانہ پنجاب اویس لغاری نے بجٹ برائے سال 2022-23 پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بجٹ کا مجموعی حجم 3 ہزار226 ارب روپے ہے، کل آمدن کا تخمینہ 2 ہزار521 ارب 29 کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے، بورڈ آف ریونیو کا ہدف 44 فیصد اضافے کے ساتھ 95 ارب روپے مختص ہے، نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 163 ارب 53 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں رکھے گئے ہیں، 528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کیے گئے ہیں، ترقیاتی پروگرام کیلئے 22 فیصد اضافے کے ساتھ 685 ارب روپے مختص ہیں، محکمہ ایکسائز سے 2 فیصد اضافے کے ساتھ 43 ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، 312 ارب روپے پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں، ترقیاتی پروگرام کیلئے 685 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ 41 ارب روپے دیگر ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مختص ہیں، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے، ایک ہزار712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں تجویزکیے گئے ہیں، وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکج کے تحت 200 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، عام آدمی کیلئے سستے آٹے کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے کہا کہ شہری علاقوں میں اسٹامپ ڈیوٹی کی شر ح کو ایک فیصد سے بڑھا کر2 فیصد کرنے کی تجویز ہے جب کہ ترقیاتی بجٹ میں پہلے سے جاری اسکیموں کیلئے 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ کا 40 فیصد سوشل سیکٹر، 24 فیصد انفراسٹرکچر پر مشتمل ہو گا، ترقیاتی بجٹ کا 6 فیصد پروڈکشن سیکٹر اور 2 فیصد سروسز سیکٹر پر مشتمل ہے جب کہ ترقیاتی بجٹ میں دیگر پروگرامز اور خصوصی اقدامات کیلئے 28 فیصد فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی بجٹ میں شعبہ صحت پر 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویزہے، صحت کے بجٹ میں 296 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے مختص ہیں، صحت کے بجٹ میں 174 ارب 50 کروڑ روپے ترقیاتی فنڈز کیلئے مختص کیے گئے ہیں، شعبہ صحت پر 10 فیصد زیادہ فنڈز رکھے جا رہے ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ جنوبی پنجاب سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 35 فیصد مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جنوبی پنجاب کیلئے 240ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے، سوشل سیکٹر کیلئے مجموعی طور پر272ارب 60 کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی مد میں 45 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، شعبہ تعلیم کے لئے مختص کردہ مجموعی بجٹ میں 428 ارب 56 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں، اسکولوں میں مفت کتب کی فراہمی کیلئے 3 ارب 20 کروڑ روپے مختص کئے ہیں، دانش اسکول کے جاری تعلیمی اخراجات کیلئے 3 ارب 75 کروڑ روپے مختص ہیں۔

صوبہ پنجاب کا بجٹ پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں نئے دانش اسکولز کی تعمیر کے لیے ایک ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام کے تحت پی ای ایف کیلئے 21 ارب 50 کروڑ روپے مختص ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 اور پنشن میں 5 فیصد اضافے کی تجویز ہے، مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاونس تجویز کیا گیا ہے، گریڈ ایک سے 19 تک کے ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15 فیصد اضافی دیا جائے گا، کم از کم اجرت 20 ہزار ماہانہ سے بڑھا کر 25 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعت کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 23 ارب 83 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، یکم جولائی 2022 سے سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یکم جولائی سے صوبے بھر کے غریبوں کیلئے مفت ادویات فراہم کی جائیں گی، وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم کو بھی دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے کہا کہ شعبہ خصوصی تعلیم کیلئے ایک ارب 52 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، ہائیر ایجوکیشن میں 13 ارب 50 کروڑ روپے ترقیاتی مقاصد کیلئے مختص ہیں، ضلع ملتان میں کیڈٹ کالج کے قیام کیلئے 70 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، میانوالی اور حسن ابدال کیڈٹ کالجز میں سہولیات کی فراہمی کیلئے 10 کروڑ روپے مختص ہیں، ہائیر ایجوکیشن کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 59 ارب 7 کروڑ روپے کی رقم مختص ہے۔

انہوں نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال میں صحت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 470 ارب روپے مختص ہیں، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیلئے 21 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں، چولستان کے باسیوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے 84 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، زراعت کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 53 ارب 19کروڑ روپے مختص ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ نان ٹیکس ریونیوکی مد میں163 ارب 51 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، برقی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کی مد میں 95 فیصد رعایت کو جاری رکھا جا رہا ہے، بجٹ میں زراعت کے پروگرام کے لئے 3 ارب 65 کروڑ روپے مختص ہیں، زرعی شعبے میں تحقیق کیلئے 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے 8 نئے منصوبوں کا آغاز ہو گا، آب پاشی کیلئے مجموعی طور پر 53 ارب 32 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، آبپاشی کے بجٹ میں 25 ارب 69 کروڑ روپے جاری اخراجات کے لئے مختص کئے گئے ہیں، آبپاشی کے بجٹ میں 27 ارب 63 کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کیلئے مختص ہیں۔

صوبہ پنجاب کا آئندہ مالی سال کے لیے پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے کہا کہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کیلئے 80 ارب 77 کروڑ روپے مختص ہیں، پی ای آئی ایم اے کیلئے 4 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More