سیاستدانوں نے شوگر سیکٹر میں کارٹل بنا رکھے ہیں، خواجہ آصف

اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف شوگرمافیا کے خلاف پھٹ پڑے ۔ بولے سیاستدانوں نے شوگر سیکٹر میں کارٹل بنا رکھے ہیں۔ کہا زیادہ تر شوگر ملز مالکان سیاستدان ہیں جو سیاستدان نہیں وہ بھی سیاستدانوں یا ان کی اے ٹی ایمز کے زیر اثر ہیں۔

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤئنٹس کمیٹی کا اجلاس رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ہوا ۔اجلاس میں رکن کمیٹی خواجہ آصف نے ملک میں مہنگی چینی سے متعلق معاملہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں نے شوگر سیکٹر میں کارٹل بنا رکھے ہیں۔ شوگر ملز والے مافیا بن چکے ہیں۔ ایک ایک سیاستدان کی 8 سے 10 شوگر ملیں ہیں۔جو سیاستدان نہیں وہ بھی سیاستدانوں یا ان کی اے ٹی ایمز کے زیر اثر ہیں چند بندے ارب پتی نہیں بلکہ کھرپ پتی بن چکے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ ملک کو شوگر ملز مالکان کے شکنجے سے نکالنے کی ضرورت ہے ۔شوگر ملیں بند کرکے چینی درآمد کرنے کا جائزہ لینا ہوگا۔چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کپاس کی فصل سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔گنے کے بجائے کپاس اگانا ملک کیلئے زیادہ فائدہ مند ہے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ اگر درآمدی چینی پر خرچ کم آتا ہے توملک میں شوکر ملیں بند کردینی چاہیئں۔ اجلاس سابق چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر عظیم کی مدت ملازمت میں توسیع نہ دینے کا معاملہ زیرغور لایا گیا۔ سیکریٹری فور سیکورٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈاکٹر عظیم کی سمری واپس لے لی گئی ہے ۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More