جلسہ گاہ میں پولیس گردی کا مظاہرہ کیا گیا، عثمان ڈار

سیالکوٹ : پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کا کہنا ہے کہ جلسہ گاہ میں پولیس گردی کا مظاہرہ کیا گیا، ہمیں یقین تھا اگر ہم جیل میں بھی ہوئے تو عمران خان ضرور آئے گا۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باوجود جلسے کی تیاریوں کے باعث ؑعثمان ڈار اور دیگر کارکنان کو گرفتار کیا گیا تھا، رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ میڈیا کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے بہادری کا مظاہرہ کیا، آج بائیس لوگوں نے پولیس کے دو ہزار اہلکاروں کا مقابلہ کیا، ہم ان کی ریاستی دہشت گردی سے ڈرنے والے نہیں، تب ان کا کیا بنے گا جب پچیس لاکھ افراد حقیقی آزادی مارچ کے لئے آئیں گے۔

انکا کہنا تھا کہ پولیس کا رویہ نہایت ناگوار تھا، بے دریغ ہم پر شیلنگ کی گئی،آٹھ گھنٹوں سے ہمیں قیدی وین میں رکھا گیا، پولیس والے بتانے سے گریزاں تھے کہ ہمیں کہاں لے کر جایا جارہا ہے، آخر کار نارووال کے سرحدی تھانے میں ہمیں رکھا گیا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ہمیں یقین تھا اگر ہم جیل میں بھی ہوئے تو عمران خان ضرور آئے گا، پاکستان تحریک انصاف کے کارکن اگر صبرنہ کرتے تو سانحہ ماڈل ٹاؤں عوام کو یاد ہے، سانحہ ماڈل کے دو مرکزی کرادر تھےایک چیری بلاسم اور دوسرا ثنااللہ، انکا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نہ ہوتے تو شایدہم اس وقت کوٹ لکھ پت جیل میں ہوتے ۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More