مہنگائی مجھے رات کو سونے نہیں دیتی، وزیراعظم کا اعتراف

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ این آر او مانگنے والے پارلیمنٹ میں شور مچاتے ہیں، بولنے نہیں دیتے، اس لئے کوشش تھی ہر ماہ بعد عوام کے سوالوں کا جواب دوں ، شہبازشریف کو اپوزیشن لیڈر نہیں قومی مجرم سمجھتا ہوں، مجرموں سےمفاہمت کروں گا تو قوم سے غداری کروں گا۔

آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ میں وزیراعظم عمران خان نے عوام سے ٹیلی فون پربراہ راست گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر پٹرول مزید مہنگا ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھی ہیں اور مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، نرخوں میں اضافہ پوری دنیا کا مسئلہ، مہنگائی مجھے رات کو سونے نہیں دیتی، جتنے بحران ہمیں ملے، ماضی میں کسی حکومت کے حصے میں نہیں آئے، لوٹ مار کرنے والے پی ٹی آئی کے ناکام ہونے کا شور مچارہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے عوام سے براہ راست گفتگو کے دوران کہا کہ کوشش تھی کہ ہر ماہ لوگوں کے سامنے آ کر جواب دوں۔ اصولاً سوالات کے جوابات پارلیمنٹ میں دینے چاہئیں مگر اپوزیشن اراکین شور مچا دیتے ہیں اور مجھے بولنے نہیں دیتے۔ اسلامی فلاحی ریاست ہمارا منشور ہے، جب اقتدار میں آئے تو ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا۔

انہوں نے کہا کہ مشرف نے 2 گھرانوں کی چوری معاف کرکے جرم کیا، ہم نے ڈاکوؤں کےساتھ کوئی مفاہمت نہیں کرنی، سیاست میں ان ڈاکوؤں کےخلاف ہی آیا ہوں، کوئی طاقتور جیلوں میں نظرنہیں آتا، 3 بارکے وزیراعظم کے بچے بیرون ملک بیٹھے ہیں ، میں ملک سے نہیں بھاگا، کیسز کا سامنا کیا، کہا جاتا ہے کہ میں شہبازشریف سے ہاتھ نہیں ملاتا، شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر نہیں قومی مجرم سمجھتا ہوں، شہبازشریف نے داماد اور بیٹے کو ملک سے فرار کرایا، شہبازشریف پارلیمنٹ میں 3،3 گھنٹے کی تقریریں کرتے ہیں، تقریر کم اورجاب کی درخواست زیادہ ہوتی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مقصود چپڑاسی کےاکاؤنٹ میں 16 کروڑ روپے کیسے آگئے؟، جب سوال پوچھاجائےتو کہتے ہیں بچے باہر ہیں ان سے پوچھیں، شہبازشریف کیس کا روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ ہونا چاہیے، اپوزیشن کواین آراو نہیں دوں گا، مجرموں سےمفاہمت کروں گا تو قوم سے غداری کروں گا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت سے نکل گیا تو آپ کیلئے زیادہ خطرناک ہوجاؤں گا، پارٹی کومنظم رکھنے کیلئے یہ لوگ واپسی کی باتیں کرتے ہیں، اپوزیشن اپنی چوری بچانےکیلئے نکل رہی ہے، سڑکوں پرنکلا تو اپوزیشن کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، ہر بیروزگار سیاستدان کہتا ہے میں حکومت گرادوں گا، 11 پارٹیوں کا گلدستہ بھی مینار پاکستان نہیں بھر سکا اور ہم نے مینار پاکستان کو 4 بار بھرا،مجھے ان کے پاکستان آنے کاشدت سے انتظارہے، قوم آئندہ بھی ہماراساتھ دے گی۔

ملک میں بڑھتی مہنگائی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ مہنگائی صرف پاکستان کامسئلہ نہیں، کورونا کے سبب پوری دنیا کی معیشت کو دھچکا لگا۔ بد قسمتی سے ہمیں 20 ارب ڈالرکا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا، روپے کی قدر گرنے سے جو چیزیں امپورٹ کرتے ہیں وہ مہنگی ہوجاتی ہیں، کورونا کے دوران عوام پر 8 ارب روپےخرچ کیے، ملکی مسائل کو حل کیا تو کورونا آ گیا جس سے تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ کورونا کی وجہ سے دنیا کو بحران کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی کے مسئلے سے بہت جلد نکل جائیں گے، پاکستان میں 8 ہزار ارب روپے ٹیکس اکٹھا کروں گا، پام آئل پوری دنیا میں مہنگا ہوا، ہمارےدورمیں غربت کم ہوئی، کسانوں کی آمدن میں 73فیصد اضافہ ہوا، جی ڈی پی میں 5.37 فیصداضافہ ہوا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More