وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں نیا پاکستان صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کردیا

لاہور: وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں نیا پاکستان صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کردیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ ہیلتھ انشورنس نہیں ہیلتھ سسٹم ہے۔ ملک میں صحت کی سہولیات کی کمی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ والدہ کو علاج کے لیے بیرون ملک لے جانا پڑا۔ والدہ کو کینسر کے چوتھے اسٹیج پر پاکستان واپس لایا۔

کورونا وائرس لاک ڈاؤن پر حکومت کی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جب کورونا آیا، تو 3 ماہ اپوزیشن نے مجھے برا بھلا کہا کہ لاک ڈاؤن نہیں کر رہا۔ کورونا کے دوران اپوزیشن کہتی رہی کہ لاک ڈاؤن لگادو، کورونا کے دوران لوگ مرنے لگے تو کہا گیا کہ مجھ پر مقدمہ درج کروائیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ساری دنیا میں مہنگائی آئی ہوئی ہے، پوری کوشش ہے کہ مہنگائی میں لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ 47 ارب روپے کی 62 لاکھ اسکالرشپس دے رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ صحت کارڈ پرعثمان بزدار، ڈاکٹریاسمین راشد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جب میں نے ان کوپنجاب کو ہیلتھ کارڈ دینے کا کہا تودونوں کوبڑا جھٹکا لگا، عثمان بزدارکا سب سے زیادہ پسماندہ علاقے سے تعلق ہے، 3سالوں میں440ارب ہیلتھ انشورنس پرخرچ ہونگے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، ہیلتھ کارڈ سے غریب لوگوں کو فائدہ ہو گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ عام آدمی کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لئے تعلیم، صحت، سماجی مساوات اور انصاف کی سہولتوں کی منصفانہ فراہمی تحریک انصاف کے منشور میں اولین ہے۔۔نیا پاکستان صحت کارڈ تاریخ ساز فلاحی منصوبہ ہے جس سے 10 لاکھ روپے کے سالانہ مفت علاج کی سہولت ہو گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھاکہ آج کا دن تاریخ ساز دن ہے۔ 3 کروڑ گھرانوں کوہیلتھ کارڈملےگا۔2020 تک 54 لاکھ خاندانوں میں ہیلتھ کارڈ تقسیم کر چکے ہیں جن میں سے 7 لاکھ خاندان ہیلتھ کارڈسےاپناعلاج کروا چکے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More