وزیراعظم نے اسلامی بلاک تشکیل دینے کی بات نہیں کی، عاصم افتخار

اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد کا کہنا ہے او آئی سی مسلم امہ کو درپیش تنازعات کے حل کے لیے فعال کر دار ادا کرے گی۔ وزیر اعظم نے یہ بات اسلامی ممالک کے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے تناظر میں بات کی ہے۔

وزارت خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ چین کو او آئی سی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے میں بلاک پولیٹکس کا کوئی تصور نہیں تھا۔او آئی سی میں کشمیر پر قرارداد ،کشمیر ایکشن پلان کی منظوری ،افغانستان میں ٹرسٹ فنڈ کو فعال بنانے پر بات ہوئی۔بھارتی میزائل کا پاکستان میں گرنے پر تشویش اور فلسطین پر قرارداد،اسلاموفوبیا اور دہشتگردی پر قرارداد اجلاس کے اہم نتائج ہیں۔

عاصم افتخار نے بتایا کہ اجلاس میں 800 مندوبین، وزارتی سطح پر 45 وفود نے شرکت کی۔اسلامی ممالک کے دو 2 سربراہی اجلاس اور 5 وزارتی اجلاس ہوئے ۔اجلاس میں مجموعی طور پر 140 قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئی ہیں جن میں سے 20 قراردادیں پاکستان نے پیش کیں جن کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ سابق سفیر تسنیم اسلم کو او آئی سی آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ منتخب کیا گیا۔ اسلام آباداعلامیہ میں کورونا وباء کے سماجی و معاشی منفی اثرات، موسمیاتی تغیر، جدت اور نئی ٹیکنالوجیز پر بات کی گئی. یوکرائن کی سالمیت اور خود مختاری کے احترام، جنگ بندی پر زور دیا. تنازعہ کے حل کے لیے مذاکرات، او آئی سی کی مصالحت کی پیشکش کی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے وزیر اعظم کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے وزیر اعظم نے اسلامی بلاک تشکیل دینے کی بات نہیں کی۔ انہوں نے اسلامی ممالک کے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے تناظر میں بات کی ہے۔پاکستان اور امریکہ کے مابین باہمی تعاون میں وسعت پر بات ہوئی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More