پلاننگ کے تحت مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پرویزالٰہی

لاہور: چودھری پرویزالٰہی نے الزام لگایا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف اور حمزہ شہباز کے ایماء پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ سارا کچھ ایک پلاننگ کے تحت کیا گیا۔

چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ میں کس عدالت کے پاس جاؤں، عدالتیں تو ان کے کہنے پر رات کو کھل جاتی ہیں لیکن کسی مظلوم کیلئے کوئی عدالت نہیں۔

سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ بطور سپیکر نون لیگ کے جیلوں میں بند رہنماؤں کیلئے پروڈکشن آرڈر جاری کرتا رہا۔ آج ان لوگوں نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا ساری دنیا کے سامنے ہے۔ لیگی ارکان سہیل شوکت بٹ اور ملک وحید نے حمزہ شہباز کے کہنے پر مجھ پر حملہ کیا۔ یہ غنڈے اپنے گھر سے لے کر آئے ہیں۔ میں ابھی بھی سپیکر ہوں، میرے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا۔ مجھ پر حملہ کرنے کیلئے آنے والے غنڈے حمزہ حمزہ کے نعرے لگاتے رہے۔

قاف لیگ کے صدر اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 69 کے تحت ججز کے فیصلے پارلیمنٹ میں ڈسکس نہیں ہوسکتے۔ اسمبلی میں کیا ہونا ہے کیا نہیں ہونا۔ عدلیہ طے نہیں کرسکتی۔

غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 69 بڑا واضح ہے۔ کہ آئین کے تحت عدالتیں اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتیں۔ عدالت اسمبلی کی کارروائی، رولز اور طریقہ کار میں دخل نہیں دے سکتی۔ اور اس آرٹیکل کے تحت ججز کے فیصلے پارلیمنٹ میں ڈسکس نہیں ہوسکتے۔ اسمبلی میں کیا ہونا ہے کیا نہیں ہونا، عدلیہ طے نہیں کرسکتی۔

چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا الیکشن لڑ رہا تھا اس لئے تمام پاورز ڈپٹی اسپیکر کو دیں۔ لیکن جب ڈپٹی اسپیکر نے اختیارات کا غلط استعمال کیا تو میں نے اختیارات واپس لے لئے۔ جمہوریت کے نام پر دھبہ لگا ہے منحرف ارکان کا فیصلہ کیوں روکا گیا۔ ڈپٹی اسپیکر متنازعہ ہے ہم اس کو کیسے جج مان سکتے ہیں، باہر سے غلط فیصلے نہ آتے، پارلیمنٹ کے کام مداخلت نہ ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا آج تک پولیس اسمبلی میں نہیں آئی۔ جب پولیس اہلکاروں نے ممبرز کو تھپڑ مارے تو جھگڑا شروع ہو گیا۔ پولیس کا ہاؤس میں آنا ہی غیر آئینی ہے۔ تمام ہاؤس ممبرز نے پولیس کے خلاف تحریک استحقاق دے دی ہے۔ میں نے تحریک ٹیک اپ کرلی ہے۔ ہم آئی جی کو تین ماہ کی سزا دے سکتے ہیں۔ اور جنہوں نے پولیس اندر بلائی ان پر بھی توہین عدالت لگے گی۔

چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ لوٹے اچھالنا تو نارمل بات ہے لوٹے تو پہلے بھی ہاؤس میں آتے رہے ہیں۔ اپوزیشن والے منحرف ارکان کو کیوں ساتھ لے کر آئے ہیں۔ تین ہوٹلوں میں منحرف ارکان کو روکا گیا۔ میرے ووٹر کو زبردستی اٹھا یا گیا اور انہیں لالچ دی گئی ورغلایا گیا۔ مسلم لیگ نون کا کوئی حق نہیں انہوں نے ہمارے ووٹرز کو اٹھائے۔ علیم خان ان کا فنانسر ہے۔ شریفوں نے تو پہلے سے ایک پیسہ نہیں لگایا۔ کم از ڈیڑھ سے دو ارب روپیہ ہمارے ارکان کو خریدنے کے لئے استعمال ہوا۔ حالات کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل دیا جائے گا۔

پرویز الہیٰ نے مزید کہا کہ مجھ سے کوئی سیاسی غلطی نہیں ہوئی۔ مجھ سے پہلے بھی تین دفعہ شریفوں نے وعدے کئے جو کبھی پورے نہیں ہوئے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More