پارلیمانی پارٹی اجلاس، پرویزخٹک کی وزیراعظم، حماد اظہر اور شوکت ترین پر کڑی تنقید

اسلام آباد: حکومت اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران گیس کے معاملے پر حماد اظہر اور پرویز خٹک کے درمیان تلخی کلامی ہوئی جس کے بعد پرویز خٹک غصے میں اجلاس سے چلے گئے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی زیرصدارت ضمنی مالیاتی بل کی منظوی سے قبل ارکان قومی اسمبلی کو اعتماد میں لینے کیلئے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا تاہم اجلاس کا ماحول کافی کشیدہ رہا ۔ وزیراعظم باضابطہ طور پر ارکان قومی اسمبلی سے منی بجٹ کے معاملے پر بات نہ کرسکے۔

ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی اجلاس میں پرویز خٹک، نور عالم و دیگر ارکان نے منی بجٹ، مہنگائی، اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیر دفاع ا پرویز خٹک نے کہا کہ آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے۔خیبرپختونخوا میں گیس پر پابندی ہے۔ گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پِس بھی ہم رہے ہیں۔ اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے۔

ذرائع کے مطابق پرویز خٹک کی اس گفتگو پر وزیراعظم اٹھ کر جانے لگے اور کہا کہ اگر آپ مجھ سے مطمئن نہیں تو کسی اور کو حکومت دے دیتا ہوں۔ میں ملک کی جنگ لڑ رہا ہوں کوئی ذاتی مفاد نہیں، میرے کارخارنے نہیں،میری کوششیں ملکی مفاد کی خاطر ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے پرویز خٹک کو سخت جواب دیا اور کہا کہ سب کے سامنے آپ مجھے بلیک میل کررہے ہیں۔میں بلیک میل نہیں ہوں گا۔ میں حکومت جائیداد بنانے کیلئے نہیں کر رہا۔ میں آپ کو روز روز بلا کر ووٹ مانگ رہا ہوں، میں ہر روز آئی ایم ایف سے کہہ رہا ہوں کہ ٹیکس کم کریں، میرے نہ تو کارخانے ہیں نہ میرا کوئی کاروبار نہیں ہے ۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ اگر آپ کی یہی بلیک میلنگ رہی تو اپوزیشن کو دعوت دے دیں کہ وہ آ کر حکومت کر لیں۔ اس موقع پر وزیر توانائی حماد اظہر نے بیچ میں بولنے کی کوشش کی تو پرویز خٹک نے انہیں ٹوک دیا اور کہا کہ میں وزیر اعظم سے بات کررہا ہوں۔

ذرائع کے مطابق پرویز خٹک کی بات سن پر وزیراعظم نے ناراضی کا اظہار کیا اور اجلاس سے اٹھ کر جانے لگے تاہم سینئر ارکان قومی اسمبلی نے انہیں روک لیا مگر پرویز خٹک اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔پرویز خٹک نے حماد اظہر اور وزیر خزانہ شوکت ترین پر بھی سخت تنقید کی۔

اجلاس میں رکن اسمبلی نور عالم نے بھی سوالات کیے۔ انہوں نے وزیراعظم سے پوچھا کہ کیا اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے سلامتی ادارے تو متاثر نہیں ہوں گے؟ ۔کیا ہم سلامتی اداروں کے اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی آئی ایم ایف کودیں گے؟۔ نورعالم خان نے پوچھا کہ کیا منی بجٹ سے ہمیں گیس، پانی، بجلی ملے گی؟۔

اس پر وزیراعظم نے کہا کہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ سلامتی اداروں کا تحفظ ہر صورت یقینی اور پہلی ترجیح ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے دوران دیگر ارکان اسمبلی کے سوالات کے بھی جواب دئیے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More