شہزاد اکبر نے ڈیلی میل کی پلانٹڈ خبر پر پانچویں مرتبہ التوا مانگا، مریم اورنگزیب

اسلام آباد: مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے عمران خان کی رخصتی کا اشارہ دے دیا ۔نااہل حکمران حسد کی آگ میں جل رہے ہیں۔ ملک کے معاشی اشاریے ٹھیک نہیں اور پی ٹی آئی حکومت نے تاریخی قرضے لیے۔

ترجمان مسلم لیگ(ن) نے نیوز کانفرنس میں الزام عائد کرتے ہوئے مشیر احتساب شہزاد اکبر کو برطانوی اخبار کا ٹاؤٹ قرار دیاتے ہوئے کہا کہ شہزاداکبر روز پی آئی ڈی میں بیٹھ کر کاغذ لہراتےتھے ۔عمران خان نے شہبازشریف کے خلاف ڈیلی میل کی سٹوری پلانٹ کرائی ۔وہ مافیاز کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔ عدالت میں ثبوت پیش نہ کرنے پر شہباز شریف کو ضمانت ملی ۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ لندن میں شہزاد اکبر نے ڈیلی میل کی پلانٹڈ خبر پر پانچویں مرتبہ التوا مانگا ہے۔ جس طرح بشیر میمن کو بلاکر نوازشریف اور شہبازشریف کے خلاف مقدمات بنانے کا کہا تھابالکل اسی طرح عمران خان نے اپنے ٹاؤٹ شہزاد اکبر کے ذریعے یہ اسٹوری پلانٹ کرائی تھی ۔ ڈی فیڈ فنڈ میں کرپشن کے الزامات لگائے گئے۔

ترجمان مسلم لیگ نے کہا کہ ایف آئی اے کیس کو سوا سال ہوگیا جس میں نیب کی بھی بس ہوگئی۔ لندن کورٹ کےفیصلےمیں آیاشہبازشریف کیخلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ یہ ثبوت اس لیے نہیں دےپاتےکیونکہ کرپشن ہوئی ہی نہیں ہے۔شہزاداکبرپاکستان میں کوئی ثبوت نہیں دےسکے لندن میں کیا ثبوت دیتے۔ڈیلی میل کےوکیل نےکہا کہ کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

ترجمان مسلم لیگ نون مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر نے شہباز شریف پر جتنے الزامات لگائے سب جھوٹے ہیں۔ صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایاجارہا ہے۔اقتدارپرمسلط عمران خان شہبازشریف کےخوف میں مبتلا ہیں۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس میں شہباز شریف نےعمران خان کے خلاف ہتک عزت کا دعوی ٰکیا ہے وہاں کیوں پیش نہیں ہوتے ہیں ؟۔آج لندن اور اسلام آباد کی عدالتوں میں التوا پر التوا مانگے جارہے ہیں ۔وزیراعظم کی سیٹ پربیٹھاشخص ہرروزنیاتماشہ کھڑاکر دیتاہے۔

لیگی ترجمان نے مزید کہا کہ آج عوام سوچ رہے تھے کہ کابینہ بجلی گیس سستی کرنے کا اعلان کرے گی جبکہ فواد چوہدری نے معاشی اشاریے درست ہونے کے دعوے کئے۔ کے پی کے میں تبدیلی کو گھر جانے کا کہہ دیا گیا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More