پی ڈی ایم کا مشترکہ اجلاس میں کی جانے والی قانون سازی چیلنج کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کی جانے والی قانون سازی چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

پی ڈی ایم کےسربراہ مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں سربراہی اجلاس میںمولانا عبدالغفور حیدری، اکرم درانی، کامران مرتضی، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، مریم اورنگزیب ، آفتاب شیرپاو، میر کبیر شاہی، ڈاکٹر عبدالمالک، اویس نورانی شریک ہوئے جبکہ نوازشریف، شہبازشریف، مریم نواز، اسحاق ڈار نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی ۔

ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم قیادت نے مشترکہ اجلاس میں ہونے والی قانونی سازی کی مذمت کرتے ہوئے آئین اور شریعت کے منافی قوانین کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس قانونی جنگ میں پیپلزپارٹی کو بھی شامل کرنے پر غور کیا گیا۔

سینیٹر کامران مرتضی کی اجلاس میں قانون سازی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیپلزپارٹی اور صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی احسن بھون کا موقف بھی ایک ہے۔ پی ڈی ایم قیادت نے مشترکہ اجلاس میں غیر حاضر ممبران کو شوکاز نوٹس دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔

مولانا فضل الرحمان نے لانگ مارچ کے ساتھ استعفوں کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے پر اسمبلیوں سے استعفی دئیے جائے۔ اجلاس کے دوران پی ڈی ایم نے 2022 میں عام انتخابات کا مطالبہ کردیا۔ شاہد خاقان عباسی اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات پیش کیں جن پر حتمی غور کیا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More