تازہ ترین
نیب کے دائرہ اختیار کے خلاف سابق صدر کی درخواست مسترد

نیب کے دائرہ اختیار کے خلاف سابق صدر کی درخواست مسترد

اسلام آباد:(07 اگست 2020)احتساب عدالت اسلام آباد نے جعلی بینک اکاؤنٹس سے جڑے پارک لین ریفرنس کو خارج کرنے اور عدالتی دائرہ اختیار کے متعلق درخواستیں مسترد کردی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پارک لین ریفرنس کیس کی سماعت اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے کی،دوران سماعت سابق صدر آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک کا موقف تھا کہ کیس پیسوں کی لین دین کا ہے،سمٹ بینک اور نیشنل بینک نے پہلے ہی بینکنگ کورٹ میں مقدمہ دائرکیا ہوا ہے،دونوں بینکوں نے آصف زرداری کو فریق ہی نہیں بنایا ہے، نہ جانے نیب کیوں آصف زرداری کے پیچھے پڑگیا ہے۔

اس موقع پر فاروق نائیک نے عدالت سے آصف علی زرداری کی بریت اور ریفرنس خارج کرنے کی درخواست واپس لینے کی استدعا کی تاہم نیب نے بریت کی درخواست خارج کرتے ہوئے فردجرم عائد کرنے کی استدعا کی،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی کا کہنا تھا کہ تمام دلائل مکمل ہونےکے بعد درخواست واپس نہیں لی جاسکتی۔

اس موقعے پر عدالت نے پارک لین ریفرنس میں نیب کے دائرہ اختیار پر فیصلہ محفوظ کیا، بعد ازاں جج محمد اعظم خان نے پارک لین ریفرنس میں محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے پارک لین ریفرنس خارج کرنے اورعدالتی دائرہ اختیار پر سابق صدر آصف زرداری کی دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے ریفرنس خارج کرنے کی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ یہ کیس ان پر نہیں بنتا پارک لین ریفرنس خارج کر کے بری کیا جائے،دوسری درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پارک لین ریفرنس نیب قانون نہیں بلکہ مالیاتی قوانین کا کیس ہے۔

احتساب عدالت نے دس اگست کو آصف علی زرداری سمت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلہ کا تحریری حکم نامہ آج ہی ضروری ہدایات کے ساتھ جاری کریں گے۔

اس سے قبل عدالت نے وڈیو لنک کے ذریعے فرد جرم عائد کرنے کا حکم دے رکھا تھا،آصف زرداری کی جانب سے متفرق درخواستوں کے باعث فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی موخر کردی گئی تھی۔

Comments are closed.

Scroll To Top