روس سے سستے تیل کی خریداری پر تحقیقات کرانے کا حکم

اسلام آباد: پبلک اکاونٹس کمیٹی نے سابق حکومت کی جانب سے روس سے سستے تیل خریداری پر تحقیقات کرانے کا حکم دے دیا روس سے کیا معاہدہ ہوا کوئی رقم دی گئی یانہیں چئیرمین کمیٹی نورعالم خان نے وزارت پٹرولیم تحریری طور پر تفصیلات طلب کرلیں ،کمیٹی کو بتایا گیا کہ توانائی شعبے کا گردشی قرضہ بھی چار ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چئیرمین کمیٹی نورعالم خان کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں پی ایس او کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی سے متعلق 56 ارب کا خلاف ضابطہ معاہدوں پر بریفنگ دی گئی۔ سیکریٹری پٹرولیم نے کمیٹی کو بتایا کہ نعیم یحیی میر سابق ایم ڈی پی ایس او، سینئر جنرل مینیجر ذوالفقار جعفری نے خلاف ضابطہ معاہدے کیے تھے کمیٹی نے خلاف صابطہ معاہدے کرنے والے افسران کے ریڈ ورنٹ جاری کرنے کے احکامات دے دیئے۔

پی اے سی میں روس سے تیل لینے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا چئیرمین کمیٹی نور عالم خان نے سابق حکومت کی جانب سے روس سے سستا تیل خریداری پر تحقیقات کرانے کا حکم دے۔ نور عالم خان نے کہا کہ روس سے کن دستاویزات کا تیل کے سلسلے میں تبادلہ ہوا رقم ادا کی گئی یا نہیں تمام تفصیلات فراہم کی جائیں۔ سیکریٹری توانائی علی رضابھٹہ نے بتایا کہ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ 4 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، پی ایس او، پی پی ایل، سوئی سدرن اور سوئی نادرن کا گردشی قرضہ بڑھ رہا ہےگیس شعبے کا گردشی قرضہ بڑھنے کے باعث مقامی کمپنیوں نے بھی سرمایہ کاری چھوڑ دی۔

سیکرٹری توانائی نے بتایا کہ پاکستان میں 100 فیصد گھروں کو گیس کنکشن دینے کی صلاحیت موجود نہیں ہے گیس پائپ لائن سے صرف 27 فیصد گھروں کو گیس کنکشن دیا ہوا ہے نئے ڈیمانڈ نوٹسز نہیں جاری کیے جا رہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More