چاندکی آکسیجن انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک کافی ہو گی

آسٹریلوی سائنسدان نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ چاند پر موجود مٹی، پتھروں اور چٹانوں  پر اتنی آکسیجن موجود ہے کہ وہ دنیا کے آٹھ ارب انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک بھی کم نہیں ہو گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سائنسدان چاند کی  مٹی اور چٹانوں سے آکسیجن لے کر انسانوں کے لیے قابل استعمال بنانے کا طریقہ وضع کر لیں تو چاند پر انسانوں کی بستیاں بسائی جا سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق چاند پر ہوا کا تناسب نہ ہونے کا برابر ہے۔  ہوامیں زیادہ مقدار ہیلیم ، نیون اور  ہائیڈروجن کی ہے۔ چاند کی سطح پر موجود مٹی، پتھروں اور چٹانوں  میں آکسیجن پائی  جاتی ہے لیکن یہ آکسیجن مرکبات کی شکل میں موجود ہے۔

چا ند کی چٹانوں میں 45فیصد تک آکسیجن موجود ہے لیکن ان مرکبات کو توڑ کرآکسیجن کوخالص شکل میں لانے کے لیے بہت زیادہ مقدار میں توانائی صرف کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

تاہم چاند پر توانائی کا انتظام کر کے اگر آکسیجن حاصل کرلی جائے یا کوئی ایسا طریقہ ایجاد کر لیا جائے جس سے کم توانائی  کا استعمال کر کے آکسیجن کو مرکبات سے الگ کیاجاسکے تو چاند پر انسانی زندگی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔

مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر چاند کی سطح پر صرف 10 کلومیٹر تک کھدائی کر کے چٹانیں نکالی جائیں تو اس سے حاصل ہونے والی آکسیجن  آٹھ ارب انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک کافی ہوگی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More