کینسر کا اسپتال ہمارے ملک کی ضرورت ہے، عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کیسنر ہسپتالوں کی ملک کو بہٹ ضرورت ہے۔ کسی ملک میں کینسر کا ہسپتال ہوتا ہے تو اسے نعمت سمجھا جاتا ہے۔ چاہتے ہیں کہ پرائیویٹ سیکٹر اس شعبے میں آگے بڑھے۔

شوکت خانم فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے۔لوگوں کو لگتا ہے کہ کینسر سے بچ ہی نہیں سکتے۔ کینسر ایک موزی مرض ہے۔ کینسر کے مریضوں کو لمبے عرصے تک علاج کرانا پڑتا ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ دل کی بیمایوں کے بعد زیادہ لوگ کیسنر سے مرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کینسرکی بیماری دیگر بیماریوں سے مختلف ہے۔ بدقسمتی سے کینسرکا علاج کئی سال تک چلتا ہے۔کینسرکا خوف ہوتا ہے کہ مریض بچ نہیں سکتا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چالیس سال پہلے پاکستان میں کینسر اسپتال بنانےکا ارادہ کیاتھا۔ لوگ مجھےکہتے تھےکہ اسپتال توبنالیں گے چلائیں گےکیسے؟ میرا ایک ہی جواب ہوتا تھا۔ جو لوگ اسپتال بنانے میں مدد کررہےہیں وہی اسپتال بھی چلائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ شوکت خانم بنایاتو فیصلہ کیاتھا کہ 70فیصدمریضوں کا مفت علاج ہوگا۔ فیصلے پر من وعن عمل کیا۔ دنیا میں شاید ہی پاکستان سے زیادہ کوئی کھلے دل کی قوم ہو۔ پاکستانی عوام نےاب تک63ارب روپےشوکت خانم کوفنڈز دیئے جن میں سے 63 ارب روپے مریضوں پر خرچ کئے جاچکے۔ اتنی بڑی خطیر رقم غریبوں کے علاج پر خرچ کرنا معجزہ ہے۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ کمزور طبقات کی فلاح و بہبود ریاست کی ذمہ داری ہے، پاکستانی قوم فلاحی و خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More