تازہ ترین
حکومت پر عجلت میں بلز پیش کرنے کا الزام

حکومت پر عجلت میں بلز پیش کرنے کا الزام

اسلام آباد:(30 جولائی 2020)اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے بغیر ترامیم کے فیٹف کے دونوں بل اسمبلی سے جلد بازی میں منظور کرائے ساتھ نہ دیتے تو سینٹ سے پاس نہیں ہوسکتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ لاجزمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس نیب کے ساتھ ملک نہیں چل سکتا،فیٹف کے بلز کا نیب بل سے کوئی تعلق نہیں، وزرا اتنا جھوٹ اور انحراف کریں گے تو اس ملک کا کیا ہو گا۔

سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت نے کہا کہ چار بل ہیں جنہیں منظور کرانا چاہتے ہیں، تین بل ایف اے ٹی ایف کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں، ایک بل نیب سے متعلق ہے جسے پاس کرانا چاہتے ہیں، حکومت نے کہا کہ چاروں بل اکھٹے پاس کرانا چاہئیں، ایک بل سیکیورٹی کونسل سے متعلق آج پاس ہوا، بل میں ہم نے ترمیم پیش کی، بل میں پرسن کی تعریف میں ترمیم کی، دونوں بلز کا فیصلہ 20، 25 منٹ میں ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک بل معاشی دہشت گردی کے حوالے سے تھا، اتنا خوفناک بل میں نےاپنی زندگی میں نہیں دیکھا، ایک شہری کو 90 دن تک لاپتہ کریں، مزید 90 دن رکھ لیں، وہ عدالت بھی نہیں جا سکتا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو کر رہا ہے، یہ بل اس سےبھی خطرناک تھا، ہم نے پوچھا کہ اس سے ایف اے ٹی ایف کے کون سے تقاضے پورے ہوتے ہیں، حکومت ہمیں کوئی جواب نہ دے سکی۔

پیپلزپارٹی کی سینیٹرشیری رحمن کا کہنا تھا کہ جھگڑے کی جڑ نیب قوانین نہیں فیٹف قوانین میں کیا گیا دھوکہ اصل وجہ ہے، حکومت اپنا نیب اپنے پاس رکھے کوئی این آر او نہیں مانگا۔

جے یوآئی کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ اخترعلی کا کہنا تھا کہ حکومت ہر جگہ اپنی نااہلیت دکھانا چاہتی ہے ہمیں کمیٹی کے قیام پر شروع دن سے اعتراض تھا

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں سب کو اعتماد میں لے کربلز پاس کئے گئے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top