اپوزیشن پارٹیز کے سربراہان تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے پر امید

اسلام آباد : متحدہ اپوزیشن کے سربراہوں کاکہنا ہے کہ پر امید ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی۔

اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ، شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری اور مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔ لیگی صدر شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں نے مشاورت کرکے عدم اعتماد کے حوالے سے اپنے اراکین سے دستخط لیے اور آج ہم نے اس کو جمع کرا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے قرضے لیکر ہماری نسلوں کو گروی رکھ دیا ہے۔ خارجہ محاذ پر بھی موجودہ حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ وزیراعظم عمران خان نے حالیہ تقریر کےدوران یورپی ممالک کو بھی ناراض کر دیا۔ ہم نے فیصلے ذاتی مفاد کیلئے نہیں بلکہ پاکستانی عوام کیلئے کیے ہیں۔ یہ کہنا میرے خلاف بیرونی سازشیں ہو رہی ہیں سراسر غلط ہے، کیا مہنگائی بیرونی سازش کی وجہ سے ہوئی۔ معیشت کا بیڑا غرق ہو گیا۔کیا یہ بیرونی سازش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہمارا بہترین دوست ہے جبکہ میلسی میں تقریر کے دوران انتہا کردی اور بیٹھے بٹھائے ہمارے یورپی یونین اور دوسرے ممالک کو ناراض کردیا۔ سب کو پتہ ہے پاکستان یورپ اور شمالی امریکا میں اربوں ڈالر کی تجارت کرتا ہے اور آپ نے بیٹھے بٹھائے کارتوس چلا دئیے۔ انہوں نے جو زبان استعمال کی وہ انہیں زیب نہیں دیتی۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہمیں اس حکومت سے کوئی خوش فہمی نہیں تھی۔ جب سے انہوں نے این جی اوز کے ذریعے سے مغربی تہذیب کو فروغ دینے کی کوشش کی تھی تو ہم نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ پاکستانی نہیں ہے، یہ کسی بیرونی ایجنڈے کا ایجنٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 2018 انتخابات کے ایک ہفتے کے اندر اندر ایک متفقہ مؤقف تیار کر لیا تھا کہ الیکشن ناجائز ہوا ہے۔ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا ہے اور ہم اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کے بعد تحریک کا آغاز ہوا۔ ہم نے اپنی ریلیوں اور مارچ سے ان سلیکٹڈ حکمرانوں کے اصل چہروں کو بے نقاب کیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے کہا کہ جب 17-2018 کا بجٹ پیش کیا جا رہا تھا جو تو شرح نمو ساڑھے پانچ فیصد تھی اور اگلے سال سالانہ ترقی کا تخمینہ ساڑھے چھ فیصد لگایا گیا تھا لیکن یہ حکومت ہماری سالانہ ترقی کا تخمینہ صفر سے بھی نیچے لے آئی، ملک کی معیشت کمزور ہو گئی اور معیشت کمزور ہونے کے بعد اب کوئی ملک آپ کو پیسہ دے کر ضائع کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

دوران پریس کانفرنس پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہم اپوزیشن کے دوستوں نے سوچا کہ اب نہیں تو کبھی نہیں کیونکہ یہ سلسلہ چلتا جا رہا ہے اور یہ اتنا خراب ہو جائے گا کہ اس کو کوئی بنا بھی نہیں سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے ہم سب مل کر بیٹھے، مشاورت کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ کوئی اکیلی جماعت پاکستان کو اس مشکل سے نہیں نکال سکتی، ہمیں مل کر ساتھ کام کرنا پڑے گا اور ان دوستوں کو بھی دعوت دیں گے جو ہم سے دور ہیں، ہم سب مل کر پاکستان کو اس مشکل سے آزادی دلائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ ہم 172ارکان کو ایوان میں لائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان سے 172 سے زائد ووٹ لیں گے، صرف ہم نہیں بلکہ کئی دوست بیزار ہیں، اسمبلی میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی اپنی پارٹی اور ان کے اپنے دوست بیزار ہیں، ان کو اپنے حلقوں میں جانا ہے تو وہ کیا جواب دیں گے۔

انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جس طرح 1989 میں غلام اسحٰق خان اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے باوجود تحریک عدم اعتماد کو کامیاب نہیں ہونے دیا تھا، وہ الگ بات کہ غلام اسحٰق خان نے اسمبلی تحلیل کردی تھی تاہم اب اس صدر کے پاس میں نے وہ طاقت ہی نہیں چھوڑی ہے کہ وہ کوئی اسمبلی تحلیل کر سکے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More