الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا سو فیصد درستگی کا دعوٰی نہیں کیا جاسکتا، فروغ نسیم

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون نے نئی مردم شماری ماڈرن ڈیوائیسز سے کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ سے بل کی منظوری کے بعد الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کروانا الیکشن کمیشن پر لازم ہے ۔

پارلیمانی سیکریٹری قانون ملیکہ بخاری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف نظر ثانی بل کو پڑھنے کے باوجود مخالفت کرنے والے ملک دشمن ہیں ۔ نواز شریف کی حکومت کی جانب کلبھوشن کو قونصلر رسائی نہ دینے پر بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف میں بھارت کی جانب سے کلبھوشن کی بریت کی استدعا کی جس کی پاکستان نے بھرپور مخالفت کی اور عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کی بریت کی درخواست مسترد جبکہ قونصلر رسائی کی درخواست منظور کی۔ عالمی عدالت انصاف نے قونصلر رسائی کے ساتھ فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کا حق دینے کا کہا ہے ۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ مشترکہ اجلاس قانونی اور آئینی ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 34 بل پاس ہوئے۔ اپوزیشن کی جانب سے مشترکہ اجلاس کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے۔ کلبھوشن کا معاملہ ملکی سلامتی کی ریڈ لائن کا معاملہ ہے۔ آپ کیسے پارلیمینٹیرین ہیں جنہیں ملکی مفاد کا ہی نہیں پتہ ۔؟کلبھوشن کیس ورثہ میں ملا ہے کو پاکستان کلبھوشن کیس جیت چکا ہے۔

فروغ نسیم کے مطابق عالمی عدالت انصاف کی جانب سے کلبھوشن کو نظر ثانی کا حق ملنے پر سر جوڑ کر بیٹھے۔ پاکستان بنانا ریپ پبلک نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست ہے۔پاکستان نے حکمت عملی سے بھارتی ہاتھ کاٹ دیئے۔ اگر سب کچھ جاننے کے باوجود اپوزیشن کلبھوشن معاملے پر سیاست کر رہی تو یہ بہت خطرناک بات ہے۔

وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن پر الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا استعمال لازم ہے۔ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے استعمال سے سو فیصد درستگی کا دعوٰی نہیں کیا جاسکتا ہے تاہم یہ پرانے طریقہ کار سے بہتر ہے۔ پرانے طریقہ کار میں دہری مہر، غلط جگہ پر مہر لگانے کی شکایات عام تھی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More