کراچی میں اومی کرون وائرس میں غیر معمولی اضافہ

کراچی میں اومی کرون وائرس میں غیر معمولی اضافہ،گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شہر میں مثبت شرح دو فیصد اضافے سے اٹھ اعشاریہ نو فیصد تک جا پہنچی ہے، اومی کرون بھی تیزی سے پنجے گاڑ رہا ہے، سندھ بھر میں اب تک اومی کرون کے 148 کیسز کی سرکاری سطح پر تصدیق کی جاچکی ہے جن میں 101 کیسز صرف کراچی سے سامنے آئے ۔

کراچی کا ضلع جنوبی اومی کرون سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 39 کیسز تاحال سامنے آئے ہیں، شرقی میں 23 جبکہ دیگر چار اضلاع میں دو دو کیسز سامنے آئے۔ ماہرین کے مطابق اومی کرون پھیلائو کے اعتبار سے ڈیلٹا سے چار گنا تیز جبکہ شدت کے حساب سے اس سے کم خطرناک ہے۔

ایک ہی گھر میں اومی کرون کے بارہ کیسز ظاہر ہونے کے بعد انتظامیہ نے گلشن اقبال بلاک سیون میں اسمارٹ لاک ڈائون لگایا تاہم ایک ہی روز بعد علاقے میں لاک ڈائون کہیں نظر نا آیا، محکمہ صحت کی جانب سے ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کے باعث وائرس کے بڑھتے پھیلائو پر سخت اقدامات کا عندیہ دیا گیا ہے۔

وفاقی محکمہ صحت کے حکام نے اتوار کو بتایا۔”سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووِڈ 19 کے 403 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے 321 کا تعلق کراچی سے ہے۔ .

نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کے ایک اہلکار نے کہا کہ کراچی میں کوویڈ 19 کی مثبت شرح 6 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ سندھ میں 75 فیصد سے زیادہ کیسز کراچی سے ہیں، جس کی وجہ ممکنہ طور پر کوویڈ 19 کے اومی کرون ویرینٹ ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے بھی ملک میں کووِڈ 19 کی پانچویں لہر کے آغاز کا عندیہ دیا، جس کا آغاز کراچی سے ہوا ہے، اور شہریوں سے اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا۔ .

حکام کا کہنا ہے کہ وہ کراچی شہر سے اومی کرون مختلف قسم کے پہلے کیس کے سامنے آنے کے بعد کراچی سے کووِڈ 19 کی پانچویں لہر شروع ہونے کا خدشہ ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں ویکسینیشن کی کم شرح کی وجہ سے جہاں صرف 40 فیصد لوگ ویکسین کر رہے ہیں، اومی کروم قسم جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی ہے۔

ان کے مطابق لاہور اس فہرست میں اگلے نمبر پر ہے جہاں کراچی کے بعد کیسز میں اضافہ متوقع ہے کیونکہ اہل آبادی میں ویکسینیشن کی شرح بھی صرف 50 فیصد ہے جبکہ دونوں شہروں میں نان فارماسیوٹیکل انٹروینشنز اینڈ سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) میں بھی بہت نرمی ہے۔ .

اسلام آباد میں بھی کیسز بڑھیں گے لیکن کراچی اور لاہور کے مقابلے اسلام آباد میں 80 فیصد ویکسینیشن ہے جبکہ کراچی اور لاہور کے مقابلے دارالحکومت میں ایس او پیز پر زیادہ عمل کیا جاتا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے حکام نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور محکمہ صحت کی جانب سے کیسز میں تیزی سے اضافے کے بعد جلد ہی صورتحال کا جائزہ لینے اور ماہرین کے ساتھ کوویڈ 19 کے مجموعی پھیلاؤ پر بات چیت کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 403 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 14,555 ٹیسٹ کیے گئے ان میں مزید کہا گیا کہ 321 کیسز کراچی سے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت 5,857 مریض زیر علاج ہیں۔ ان میں سے 5,677 گھروں میں تنہائی میں، 40 آئسولیشن مراکز میں اور 140 مختلف ہسپتالوں میں تھے۔ 136 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی جن میں سے 15 کو وینٹی لیٹرز پر منتقل کیا گیا۔

کراچی سے 321 کیسز میں سے 163 جنوبی کراچی، ایسٹ کراچی 100، سینٹرل کراچی 16، دادو 15، ملیر اور کورنگی 14، مغربی کراچی 11، مٹیاری، ٹنڈو الہ یار اور ٹنڈو محمد خان سات سات، حیدرآباد اور جامشورو میں چھ چھ کیسز سامنے آئے۔ تھرپارکر، سانگھڑ، شکارپور اور گھوٹکی میں 4، 4، عمرکوٹ، لاڑکانو اور جیکب آباد سے 3، 3 اور میرپورخاص اور سکھر سے دو، دو نئے کووِڈ کیس رپورٹ ہوئے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More