عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تین فیصد تک اضافہ

یوکرین پر روس کے حملے کے بعد عالمی رسد کے خدشات جنم لینے لگے ہیں۔مختلف ممالک کی جانب سے روس پر پابندیوں کے اعلانات کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تین فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔

عالمی مارکیٹیں خام تیل کے بڑے برآمد کنندہ روس پر تجارتی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کے لیے تیار ہیں۔امریکی صدر جو بائیڈن نے روس پر مختلف پابندیوں کا اشارہ دیا۔ان اقدامات میں روس کی بڑی کرنسیوں میں کاروبار کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ کے ساتھ ساتھ بینکوں اور سرکاری اداروں کے خلاف پابندیاں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔برطانیہ، جاپان، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی یونین نے بھی ماسکو پر مزید پابندیوں کا عندیہ دیا۔جرمنی کی طرف سے روس سے گیارہ بلین ڈالر کی گیس پائپ لائن کو روکنے کا اقدام بھی شامل ہے۔

ان اعلانات کے بعد عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت ایک سو ایک اعشاریہ اسی ڈالر فی بیرل ہوگئی۔یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ پچانوے اعشاریہ چونسٹھ ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو گیا ۔امریکی حکام کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ یہ پابندیاں تیل اور گیس کی سپلائی کو نشانہ نہیں بنائیں گی لیکن تیل کی قیمتیں بلند رہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More