کسی کو حکومت پردباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قانون کی عملداری میں خلل ڈالنے کی مزید کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس آئی، آئی بی ،ایف آئی اے ،وفاقی وزراء، مشیر قومی سلامتی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سمیت سینئر سول و عسکری حکام شریک ہوئے ۔

اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس کے شرکاء ملکی داخلی صورتحال اور ٹی ایل پی کے احتجاج کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔احتجاج کے دوران جان و مال کو نقصان پہنچانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے پولیس کی پیشہ وارانہ کارکردگی اور تحمل کو خراج تحسین پیش کیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے اعادہ کیا کے تحمل کا مطلب ہر گز کمزوری نہ سمجھا جائے۔پولیس کو جان و مال کے تحفظ کے لیے دفاع کا حق حاصل ہے۔ریاست پر امن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔ٹی ایل پی نے دانستہ طور پر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور اہلکاروں پر تشدد کیایہ رویہ قابل قبول نہیں ہے ۔

اعلامیہ کے مطابق قانون کی عملداری میں خلل ڈالنے کی مزید کوئی رعایت نہیں دی جائے گی ۔ ریاست آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہ کر مذاکرات کرے گی۔کسی قسم کے غیر آئینی اور بلا جواز مطالبات تسلیم نہیں کیے جائیں گے۔اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ کسی بھی گروپ کو امن وامان کی صورتحال بگاڑنے اور حکومت پر دباو ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More