ناظم جوکھیو کا قتل،ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ

کراچی میں رکن سندھ اسمبلی جام اویس کے مہمانوں کی وڈیو بنانا نوجوان ناظم جوکھیو کی جان لے گیا، مقتول ناظم جوکھیو کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ مظاہرین نے لاش سڑک پر رکھ کر پر دھرنا دیا اور ذمہ داروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

رکن سندھ اسمبلی جام اویس جوکھیو کے مہمانوں کی وڈیو بنانے پر پیپلزپارٹی رہنماوں نے اپنی عدالت لگالی، بدترین تشدد نوجوان ناظم جوکھیو کی موت کا سبب بنا۔ کراچی کے علاقے ملیر میں غیر ملکیوں کے شکار کرنے کی وڈیو بنانا ملیر مراد گوٹھ کے رہاٸشی نوجوان کو مہنگا پڑگیا، نوجوان کو مبینہ اغواء کے بعد تشدد کرکے لاش جھاڑیوں میں پھینک دی گئی۔

مقتول کے ورثا کے مطابق ناظم کو رکن صوبائی اسمبلی جام اویس نے قتل کیا۔ ناظم نے غیرملکیوں کو گاٶں میں شکار سے روکا اور ویڈیو بنائی تھی، سردار جام عبدالکریم نے میرے بھائی کو جام ہاٶس لانے کا حکم دیا، میرے بھائی کو میرے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

نماز جنازہ کے بعد لواحقین نے لاش کو نیشنل ہائی وے پر رکھ کر احتجاج کیا اور ذمہ داروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ لواحقین کے مطالبے پر گزشتہ رات پیپلزپارٹی رکن اسمبلی جام اویس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس نے قتل کے الزام میں میر علی اور حیدر علی نامی دو افراد کو گرفتار کرکے اغواء اور قتل کی واردات کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More