نوازشریف خود نہیں آئیں گے بلکہ ان کو ہم واپس لائیں گے، فوادچوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نوازشریف خود نہیں آئیں گے بلکہ ان کو ہم واپس لائیں گے برطانیہ سے ملزمان کی حوالگی پر بات کررہے ہیں۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے میڈیابریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دیدی۔ قومی سلامتی کی پالیسی نہایت جامع ہے۔ قومی سلامتی کیساتھ فوڈ سکیورٹی وابستہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار قومی سلامتی کو معاشی صورتحال سے جوڑا گیا ہے۔ قومی سلامتی کی پالیسی کاسب سے اہم نقطہ عام آدمی کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ پالیسی کے ذریعے عام آدمی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ عام آدمی کے تحفظ تک ملکی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوگا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ زراعت کے شعبے پر حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے۔کپاس، گندم، چاول اور گنے کی تاریخ کی سب سے بڑی پیداوار حاصل ہوئی۔اچھی پیداوار سے کاشتکاروں کو 1100 ارب اضافی آمدن ہوئی۔ ٹریکٹر اور زرعی آلات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کے پاس یوریا کا اسٹاک موجود ہے۔ یوریا کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے باعث مصنوعی قلت کا سامنا رہا۔ آئندہ 48 گھنٹے میں یوریا کی فراہمی میں نمایاں فرق پڑے گا۔ کھاد کا بحران پیدا ہوا ہے۔ ڈی اے پی ہم درآمد کرتے ہیں۔

مشیر قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی یہ پہلی قومی سلامتی پالیسی ہے۔ واضح وژن کے ذریعے ہی آئندہ کی حکمت عملی اور پالیسی مرتب دی جاسکتی ہے۔ سیکیورٹی کا مقصد ملک کے عام شہری کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ قومی سلامتی پالیسی پر 2014 سے کام شروع ہوا اور 7 سال اس پر لگے۔ قومی سلامتی پالیسی میں معاشی سلامتی پر سب سے زیادہ فوکس کیا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More