تازہ ترین
قومی ادارہ برائے امراض قلب میں چھٹے مریض کو مصنوعی دل لگانے کی تیاری مکمل

قومی ادارہ برائے امراض قلب میں چھٹے مریض کو مصنوعی دل لگانے کی تیاری مکمل

کراچی: (شفقت عزیز) پنجاب کے شہر نارووال سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان زمیندارکو اپریل 2020 میں سانس لینے میں دقت کے ساتھ ساتھ بخار بھی رہنے لگا، کافی علاج اور متعدد ڈاکٹرز کو دکھانے کے باوجود بھی طبعیبت نہیں سنبھلی توسجاد کو راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو لوجی لے جایا گیا جہاں سجاد کو علم ہوا کہ اس کا دل بیوفائی کر رہا ہے۔

علاج کیلئے لاہور اور اسلام آباد کے مختلف اسپتالوں کے چکر لگانے کے بعد ڈاکٹرز نے دل کی پیوند کاری کا مشورہ دیا لیکن پاکستان میں یہ سہولت دستیاب نہیں۔ سجاد کے بھائی ساجد نےبتایا کہ انٹرنیٹ پر کھوج لگانے کے بعد پتہ چلا کہ قومی ادارہ برائے امراض قلب کراچی میں مصنوعی دل لگایا جاتا ہے،جواگر سجاد کو بھی لگ جائے تووہ ٹھیک ہو سکتا ہے۔ دو ہفتے قبل سجاد کو کراچی لایا گیا جہاں اس کے مختلف ٹیسٹ ہوئے اور ڈاکٹرز نے مصنوعی دل سجاد کیلئے موزوں قراردیا لیکن اسے صرف یہ عارضہ لاحق نہیں بلکہ ساتھ ہی ڈینگی اور ہیپاٹائٹس سی کا بھی سامنا ہے۔

قومی ادارہ برائے امراض قلب میں کارڈیک کے سربراہ ڈاکٹرپرویزچوہدری ستارہ امتیاز سجاد کو مصنوعی دل لگائیں گے جنہوں نے بتایا کہ نوجوان ریومیٹک ہارٹ ڈیزیز کا شکارہے۔ یہ بیماری دیہی علاقوں کے رہنے والے میں زیادہ پائی جاتی ہے جس کی وجہ گلے میں انفکیشن پیدا کرنے والا ایک بیکٹیریا ہے۔ اچھامعالج دستیاب ہو تو یہ بیکٹریا ختم ہو جاتا ہے لیکن اگر اس کا موثر علاج نہ ہو سکے تو یہ دل کے والو پر اثرانداز ہوتا ہے جس سے دل کمزور ہونے کے بعد صورتحال ہارٹ فیل کی جانب جاتی ہے اور بل آخرعلاج دل کی پیوند کاری یا مکینکل ہارٹ لگانا ہے ۔

پاکستان میں دل کی پیوند کاری تونہیں ہوتی البتہ مصنوعی دل لگایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹرچوہدری کے مطابق مصنوعی دل لگانے کے لیے سرجری کافی پیچیدہ ہوتی ہے اور سجاد کی حالت کے پیش نظراس کیلئے ہر گذرتا دن قیمتی ہے۔ اس سرجری کے لیے بیرون ملک سے ماہرین بھی میں رابطے میں ہیں کیونکہ ڈینگی کی وجہ سے سجاد کے پلیٹ لیٹس بہت کم ہیں، اگر سرجری کا رسک نہ لیا جائے توبھی اس کے بچنے کے چانسز صفرہیں اور آپریشن کی صورت میں بھی کامیابی کا 20 سے 30فیصد چانس ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نوجوان کے پلیٹ لیٹس کم ہونے کی بناء پر فی الحال آپریشن ممکن نہیں۔ جس کیلئے ایک اور سرجری ایکمو ہارٹ بھی کی جا سکتی جو دل کو وقتی طور پرسپورٹ کرے گی اورجیسے ہی سجاد کی حالت اس قابل ہوئی کہ اسے مصنوعی دل لگایا جائے فورا اس کی سرجری کی جائے گی۔ ڈاکٹر پرویز چوہدری نے نوجوان کی صحتیابی کیلئے قوم سے بھی دعا کرنے کی درخواست کی۔

ایک روز قبل ناروال سے کراچی پہنچنے والی سجاد کی والدہ کہتی ہیں کہ میرے 5 بیٹے ہیں جن میں سے سجاد کا نمبر تیسرا ہے ۔ ہم بس یہ امید لے کرکراچیآئے ہیں کہ یہاں میرے بیٹے کا آپریشن ہوجائے اوروہ تندرست ہو کر واپس اپنے گاؤں جائے۔

ڈاکٹر پرویز چوہدری سال 2002 سے امریکا میں مصنوعی دل یعنی ایل وی اے ڈی سرجری کررہے ہیں، پاکستان میں یہ سرجری 2018 میں متعارف کرائی گئی ۔ڈاکٹر چوہدری پاکستان میں بھی دل کی پیوند کاری کاری کرنے جار رہے ہیں جس پر کام جاری ہے۔۔ ڈاکٹر پرویز نے کراچی میں اب تک 5 لوگوں کو مصنوعی دل لگا چکے ہیں جن میں سے 2 معمول کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 3 انتقال کرگئے۔ ایک کو آپریشن کے بعد انفکیشن نے گھیرا اور دیگر افراد دوائیں نہ لینے پر بلڈ کلاٹنگ کے سبب چل بسے۔

ڈاکٹر پرویز چوہدری کے مطابق سجاد کی عمر 28 سال ہےتو اس کا دل ٹھیک ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مصنوعی دل لگانے کے 6 ماہ بعد سجاد کا اپنا دل صحیح کام کرنے لگ جائے تو ایکو ٹیسٹ صحیح آنے پرمصنوعی دل کی رفتار کم کرکے اس آلے کو ہٹایا بھی جا سکتا ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top