قومی اسمبلی اجلاس، ضمنی مالیاتی بل میں بعض ترامیم کی منظوری

اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس میں ضمنی مالیاتی بل میں بعض ترامیم کی منظوری دیدی گئی ہے۔ ضمنی مالیاتی بل چھوٹی دوکانوں پر بریڈ، سویاں، نان، چپاتی، شیر مال، بن، رس پر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا جبکہ بچوں کا 500 روپے سے زائد کا ڈبہ 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا۔

قومی اسمبلی اجلاس میں ضمنی مالیاتی بل میں بعض ترامیم کی منظوری دیدی گئی ہے۔ٹیئر ون بیکریز، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز اور مٹھائی کی دوکانوں پر ان اشیاء کی فروخت پر ٹیکس ہوگا۔ 1800 سی سی کی مقامی اور ہائبرڈ گاڑیوں پر 8.5 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوگا ۔1801 سے 2500 سی سی کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد ٹیکس عائد ہوگا ۔درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر 12.5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

لال مرچ اور آئیوڈین ملے نمک پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا۔ بچوں کے فارمولہ دودھ پر جی ایس ٹی میں رعایت کر دی گئی۔ 500 روپے مالیت کے 200 گرام دودھ کے ڈبے پر جی ایس ٹی نہیں ہوگا تاہم 500 روپے سے زیادہ مالیت کے فارمولہ دودھ پر 17 فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔

درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھا دیا گیا۔ درآمدی گاڑیوں پر تجویز کردہ 5 فیصد کے بجائے 12.5 فیصد ٹیکس عائد کردیا گیا۔ تمام درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بدستور قائم رہے گی۔ مقامی طور پر تیار کردہ 1300 سی سی کی گاڑی پر ڈھائی فیصد ڈیوٹی عائد کردی گئی ۔ اس سے پہلے 1300 سی سی کی مقامی گاڑی پر 5 فیصد ڈیوٹی لگانے کی تجویز تھی ۔ 1301 سے 2000 سی سی کی مقامی گاڑی پر 10 کے بجائے 5 فیصد ڈیوٹی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ 2001 سی سی سے اوپر کی مقامی گاڑی پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More