نیب کی لوگوں کو بدعنوانی کےاثرات سے آگاہی کی پالیسی کامیاب رہی ہے، جاوید اقبال

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ملک بھر میں 50 ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی گئی ہیں ۔نیب کی انسداد بدعنوانی سے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے آگاہی کی پالیسی کو عالمی اقتصادی فورم اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سراہا ہے، چیئرمین نیب نے تمام علاقائی بیوروز کو ہدایت کی کہ وہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2 ماہ میں شکایات کی تصدیق، 4 ماہ میں انکوائریاں اور 4 ماہ میں انویسٹی گیشن مکمل کریں تاکہ میگا کرپشن کیسز کے ریفرنسز قانون کے مطابق احتساب عدالتوں میں دائر کیے جاسکیں۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے زیرصدارت نیب کی آگاہی پالیسی سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب ظاہر شاہ، پراسیکیوٹر جنرل اکاﺅنٹیبلٹی سیّد اصغر حیدر اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کی انسداد بدعنوانی سے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے آگاہی و تدارک کی پالیسی کو عالمی اقتصادی فورم اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سراہا ہے جو کہ نیب کی کوششوں سے پاکستان کیلئے قابل فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب، نیب آرڈیننس 1999کے سیکشن 33 سی کے تحت بدعنوانی کے خلاف آگاہی اور تدارک کے اختیارات رکھتا ہے، نیب کی لوگوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہی کی پالیسی کامیاب رہی ہے، نیب نے مختلف این جی اوز، میڈیا، سول سوسائٹی اور معاشرہ کے دیگر طبقات سے مل کر عوام بالخصوص نوجوانوں کو اوائل عمری میں بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے آگاہی مہم چلائی ہے۔ نیب کی آگاہی اور تدارک کی کوششوں کو نیب کے میڈیا ونگ نے مفت اور موثر انداز میں پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے اجاگر کیا ہے جس کو معاشرہ کے تمام طبقات نے سراہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ نے بدعنوانی کی روک تھام، بڑی مچھلیوں،اشتہاریوں اور عدالتی مفروروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2017 سے دسمبر 2021 تک گزشتہ 4 سال سے زائد عرصے کے دوران نیب کی بھرپور پراسیکیوشن کی وجہ سے احتساب عدالتوں نے 1405 ملزمان کو سزا سنائی جبکہ نیب نے ا بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 584 ارب روپے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔جوکہ نیب کی انسداد بدعنوانی کے کسی بھی ادارے کے مقابلے میں بہترین کارکردگی ہے۔نیب کی جانب سے برآمد کی گئی رقوم ہاﺅسنگ سوسائٹیزکے ہزاروں متاثرین اور مختلف سرکاری محکموں کو واپس کی گئی ہیں۔نیب افسران نے اس میں سے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ نیب پاکستان سے کرپشن کے مکمل خاتمہ کیلئے ”احتساب سب کیلئے“ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے نیب میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے اور اس کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔. انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ ، وائٹ کالر میگا کرپشن کیسز، ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں، فراڈ/غیر قانونی ہاو ¿سنگ سوسائٹیز/کوآپریٹو ہاو ¿سنگ سوسائٹیز کے ذریعے عوام سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور مضاربہ/مشارکہ سکینڈلز کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج نیب ایک متحرک اور باوقار ادارہ بن چکا ہے۔ ملک بھر کی احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے تقریباً 1237 ریفرنسز زیر سماعت ہیں اور ان کی کل مالیت تقریباً 1335 ارب روپے ہے۔ پلڈاٹ، مشال پاکستان، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور عالمی اقتصادی فورم اور گلوبل پیس کینیڈاجیسے معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے نیب کی انسداد بدعنوانی کی کوششوں کو سراہا ہے جبکہ گیلپ اور گیلانی سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں جو کہ نیب کی بہترین کارکردگی پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، نیب نے نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کی کردار سازی سے متعلق انجمنوں کے قیام کے نتائج شاندار رہے ہیں۔ ملک بھر میں 50 ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی گئی ہیں جن کے تسلسل سے اجلاس ہوتے ہیں اور وہ یونیورسٹی اور کالجوں میں نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم اب یہ جان چکی ہے کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی ماں ہے اور اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین نیب نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے عزم کا اعادہ کیا اور امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریقوں کی اجتماعی کوششوں سے کرپشن فری پاکستان کو عملی تعبیر دی جا سکتی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشیں کرپشن فری پاکستان کے خواب کو حقیقت کا روپ دے سکتی ہیں جو ہماری منزل ہے۔

چیئرمین نیب نے تمام علاقائی بیوروز کو ہدایت کی کہ وہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی) کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2 ماہ میں شکایات کی تصدیق، 4 ماہ میں انکوائریاں اور 4 ماہ میں انویسٹی گیشن مکمل کریں تاکہ میگا کرپشن کیسز کے ریفرنسز قانون کے مطابق احتساب عدالتوں میں دائر کیے جاسکیں۔۔ چیئرمین نیب نے مزید ہدایت کی کہ نیب کا دورہ کرنے والے تمام افراد کے ساتھ احترام سے پیش آئیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ نیب نے موجودہ دور میں بدعنوانی کے ذریعے جغرافیائی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر کمائی گئی رقم کو بیرون ملک چھپانے کے تناظر میںا پنی قومی ذمہ داریوں کوپورا کیاہے۔نیب نے ملک کے بین الاقوامی وعدوں میں بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔ نیب نے بدعنوانی کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی اے سی) کے دستخط کنندہ ہونے کے ناطے، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے ایک سیل قائم کیا ہے۔ مزید برآں، پاکستان سارک اینٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین ہے۔ نیب نے بدعنوانی سے نمٹنے میں تعاون بڑھانے اور پاکستان میں اس وقت سی پیک کے جاری منصوبوں کی نگرانی کے لیے چین کے ساتھ ایک منفرد مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کیے ہیں جو جسٹس جاوید اقبال کی متحرک قیادت میں نیب کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان کے لیے ایک اور اعزاز ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More