تازہ ترین
نہ گھر کے نہ گھاٹ کے

نہ گھر کے نہ گھاٹ کے

وزیراعظم عمران خان کے چوروں، ڈاکوئوں اور ملک کی دولت لوٹنے والوں کا سخت احتساب کرنے کے بلند و بانگ دعوے ان کی اپنی اٹھارہ ماہ کی حکومت کے دوران جس تیزی کیساتھ زمیں بوس ہوئے اس کو دیکھ کر عوام کو لفظ احتساب، احتساب کرنے والوں اور اداروں پر سے یقین واعتماد اٹھ گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف غداری کیس میں وزیی یہ توقع پوری نہ ہوئی، اس کا نتیجہ گزشتہ پیر اور جمعرات کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس کی سماعت کے دوران کھل کر سامنے آگیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور سابق اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور ایک دوسرے پر جھوٹ الزامات بوچھاڑ کردی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چونکہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اٹارنی جنرل پاکستان اور وفاقی وزیر قانون کے درمیان سچ اور جھوٹ کے تنازع کا فیصلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک اعلیٰ سطح عدالتی کمیشن بنایا جائے جو بھری عدالت میں فاضل سپریم کورٹ کے ججز سے متعلق سابق اٹارنی جنرل انور منصور کے عائد کردہ الزامات اور اس کے پس پردہ پوشیدہ عناصر کی چھان پین کرکے ان کو ناصرف آشکارہ کریں بلکہ ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں کیونکہ اب یہ صرف وکلابرادری، عوام اور حکومت کے درمیان کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ حق، سچ اور انصاف کے ترازو کے توازن کو برابر رکھنے کا معاملہ بھی بن چکا ہے۔

اب آتے ہیں ملک کی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مسئلے پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نہ صرف کابینہ اجلاسوں میں بلکہ عوامی تقریبات میں بھی مسلسل اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ وہ آٹا اور چینی کے بحران کے ذمے داروں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے، ایک موقع پر وزیراعظم نے یہ بھی دعویٰ کرڈالا کہ ان کو معلوم ہے کہ آٹا چینی کے بحران میں کون کون لوگ ملوث ہیں ان کا سراغ لگانے وزیراعظم نے نواز شریف فیم جے آئی ٹی ماہر واجد ضیا کی قیادت میں کمیٹی بھی قائم کی تھی جس نے اپنی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کردی ہے لیکن وزیراعظم ان کی رپورٹ سے مطمئن نہیں ہوئے اور مزید تحقیقات کے لئے رپورٹ جے آئی ٹی کو واپس بھیج دی ہے۔ دوسری طرف عمران خان کے اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان اور تحریک انصاف کے ہمدرد ترین کالم نگار اور تحریک انصاف کے منشور سے سوفیصد متفق ہارون رشید نے اپنے ایک ٹی وی شو میں انکشاف کیا ہے کہ آٹا اور گندم کی برآمد کے سلسلے میں جہانگیر خان ترین کی طرف انگلی اٹھاتی ہے، ہارون رشید کی یہ بات یقیناً غیراہم نہیں کہ اس کو حکومت مخالف گروہ یا شخص کی اڑائی ہوئی افواہ قرارداد کر نظر انداز کردیا جائے ، خود جہانگیر خان ترین کی خاموشی غمازی کررہی ہے کہ دل میں کچھ کالا ہے۔

دوسری طرف وزیراعظم اپنے قریبی دوستوں یعنی جہانگیر خان ترین اور مخدوم خسرو بختیار کو چینی اسکینڈل سے بری الذمہ قرار دیے چکے ہیں، وزیراعظم اور حکومتی حلقوں کے تواتر کے ساتھ تردید کے باوجود ٹی وی شوز اور اخبارات میں آٹا، چینی اور دیگر اشیائے ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والوں کے کارروائی کے مقابلے میں شدت پید اہوتی جارہی ہے، متواسط طبقے سے تعلق رکھنےوالے غریب عوام کی نگاہیں وزیراعظم ہائوس کی طرف لگی ہوئی ہیں، آٹا اور چینی کے مہنگائی پر عمران خان کی کابینہ کے اراکین بھی منتشر خیال ہیں، تحریک انصاف کے تعلق رکھنےوالے متعدد اراکین قومی اسمبلی ملک میں ریکارڈ توڑ مہنگائی پر سراپا احتجاج ہیں، عمران خان حکومت کے ترجمان اول وفاقی وزیر ٹیکنالوجی و سائنس فواد  چودھری نے اپنے ایک ٹی وی شو کے دوران گندم بحران کی ذمے داری صوبائی حکومتوں پر عائد کردتے ہوئے مخدوم خسرو بختیار کے کردار پر بھی تبصرہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ میں ان دونوں (جہانگیر خان ترین اور مخدوم خسرو بختیار) پر حیران ہوں کہ انہوں نے اپنے سیاسی دامن پر داغ لگالیا ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top