قومی اسمبلی اجلاس ایک مرتبہ پھر کورم کی نذر

اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس ایک مرتبہ پھر کورم کی نذر ہوگیا، حکومت کو سال 2021ء کے آخری سیشن میں شدید پریشانی کا سامنا، سانحہ سیالکوٹ پر بحث کے دوران وزیر داخلہ سمیت اہم وزرا کی عدم موجودگی پر اپوزیشن نے کورم کی نشاندھی کردی، بابر اعوان کہتے ہیں کہ ملک میں عدالتوں اور پارلیمنٹ کو انصاف کی فراہمی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں ہوا۔ ن لیگ کی شائستہ پرویز ملک کی خصوصی نشست خالی ہونے پر شکیلہ خالد چوہدری سے ڈپٹی اسپیکر نے حلف لیا۔ ممشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے سانحہ سیالکوٹ پر بحث کے سبب ایوان میں معمول کی کارروائی معطل کرکے بحث کرانے کی تحریک پیش کی۔

بابر اعوان نے کہا کہ سانحہ سیالکوٹ نے ہمیں شرمندہ کردیا فوجداری قوانین کی کمزوریاں دور کرنے کیلئے سینیٹ و قومی اسمبلی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان میں قانون اور انصاف پر جو سوالات اٹھ رہے ہیں اس پر متعلقہ ادارے اپنا کردار ادا کریں۔

مسلم لیگ ن کے رکن احسن اقبال نے کہاکہ سانحہ سیالکوٹ پر قوم رنجیدہ ہے،ایسے واقعات دین کی کم فہمی کی وجہ سے ہیں،ایوان میں وزیر داخلہ ، اطلاعات اور وزیر قانون موجود نہیں ہیں ،تحریک پر بحث کو سوموار تک موخر کیا جائے۔ ایوان میں کورم بھی پورا نہیں،احسن اقبال کے اظہار خیال کے فوری بعد ن لیگی رکن ڈاکٹر درشن نے کورم کی نشاندہی کردی،گنتی پر کورم پورا نہ ہونے کے باعث اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More