قومی اسمبلی :مالی ذمہ داری اور حد قرض ترمیمی بل منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے مالی ذمہ داری اور حد قرض ترمیمی بل 2022 اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود کثرت رائے سے منظور کرلیا ۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاک فوج کے خلاف جاری مہم کا حکومت اور متعلقہ اداروں نے سختی سے نوٹس لیا ہے جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس کا استعمال کیا جارہا ہے۔ پاک فوج اور عدلیہ کی توہین پر کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا نے سابقہ حکومت کا “مالی ذمہ داری اور حد قرض ترمیمی بل دوہزار بائیس ایوان میں منظوری کے لئے پیش کیا جسے اپوزیشن ارکان کی مخالفت کے باوجود بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

پی ٹی آئی کے منحرف رکن نور عالم خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ آج کل کچھ اینکرز اور ٹی وی چینلز کی جانب سے پاک فوج کے خلاف کھلم کھلا مہم چلائی جارہی ہے۔ حکومت ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پاک فوج کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا پیمرا، ایف آئی اے اور وزارت اطلاعات نے سخت سے نوٹس لیا ہے، اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا ڈیٹا جلد ایوان میں پیش کروں گی۔ مہم کے لئے جعلی اکاؤنٹس کا استعمال کیا جارہا ہے۔ پاک فوج اور عدلیہ کی توہین کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں دی جائے گی جو بھی چینلز اس مہم میں ملوث ہیں ان پر پابندی کا قانون موجود ہے۔

لیگی رکن میاں جاوید لطیف نے کہا کہ چار ہفتوں کی حکومت کے فیصلوں پر ازخود نوٹس لیا جارہا ہے، تو نظام کیسے چلے گا؟ کیا اس ملک میں چیف ایگزیکٹو ایک انسپیکٹر کو بھی تبدیل نہیں کرسکتا؟ اگر اسی طرح معاملات چلانے ہیں تو قومی سلامتی کا اجلاس بلاکر سارے معاملات سامنے رکھے جائیں۔ ماضی میں پانچ پانچ آئی جیز ایک واٹس اپ پر تبدیل ہوتے رہے لیکن کوئی از خود نوٹس نہیں لیا گیا۔ عمران خان جلسوں میں اداروں پر حملے کر رہے ہیں تو ان کا از خود نوٹس کیوں نہیں لیا جاتا۔

ایوان میں وزراء کی کم حاضری پر جی ڈی اے کی رکن فہمیدہ مرزا نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وزرا ایوان میں موجود نہیں جبکہ کورم بھی پورا نہیں ہوتا۔ اپوزیشن کو وقت نہیں دیا جاتا تو ہاؤس کیسے چلے گا؟ مائیک بند کرنے پر شگفتہ جمانی ڈپٹی اسپیکر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بولیں رکن کا مائیک بند کرنا اس کی توہین ہے۔ ماضی کی حکومت جیسا رویہ نہ اپنائیں۔قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More